خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 34
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۴ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۹ء جار ہے ہو اور اس کے غضب کو کیوں بلا رہے ہو۔اس کے غضب کو کیوں دعوت دے رہے ہو۔اگر تم انسان کے علاوہ دوسری مخلوق ہو تو تمہارے ساتھ میرا تعلق یہ ہے کہ جس غرض کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اس غرض کے لئے تمہارا استعمال ہو اور اگر انسان ہو تو تمہارے ساتھ میرا تعلق یہ ہے کہ میں تمہیں اس خدائے واحد و یگانہ کی طرف دعوت دوں کہ جو ہر انسان کے لئے وہی اکیلا کافی ہے اور اگر مومن ہو تو تمہارے ساتھ میرا تعلق مبشر ہونے کے لحاظ سے عظیم بشارتیں تم تک پہنچانے کا ہے اور تم سے محبت کرنے کا ہے اور تم پر کرم کرنے کا ہے لیکن تم پر توکل کرنے کا میرا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔خدا میرے لئے کافی ہے اور اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی پر میرا تو گل ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں نہ کسی اور نے پیدا کیا اور نہ کسی میں یہ طاقت ہے کہ وہ انسان کی قوتوں اور استعدادوں کو سمجھ سکے اور ان کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے، اسے پیدا کر سکے یا مہیا کر سکے اور خدا کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔اسی پر توکل کرتے ہوئے میں اس کی طرف جھکتا ہوں اور اسی سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان وعدوں کے مطابق اور ان بشارتوں کے مطابق سلوک کرے گا جو مجھ سے کی گئی ہیں۔چنانچہ آپ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انسانوں سے جو سلوک کروایا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی بعثت سے لے کر قیامت تک ایسے گروہ پیدا ہو گئے کہ جو علی وجہ البصیرت یا عادتاً حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والے آپ کے احسانات کا علی وجہ البصیرت یا لوگوں سے سن کر شکر ادا کرنے والے ہیں اور دعائیں کرنے والے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بہتر سے بہتر اور احسن سے احسن رحمتیں اور برکات اور فضل زیادہ سے زیادہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کرے اور یہی درود کے معنی ہیں۔پس قیامت تک درود بھیجنے والے گروہ پیدا ہو گئے۔میں نے آپ کو بھی کہا تھا کہ روزانہ اتنی بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا کرو۔کئی دفعہ میں سوچتا ہوں کہ اگر ساری جماعت میرے حکم پر عمل کرے تو صرف جماعت احمدیہ کی طرف سے روزانہ اربوں درود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ رہے ہوں۔یہ ہے اس تو گل کا نتیجہ اور اس اعلان کا کہ حسبی الله خدا میرے لئے کافی ہے۔چنانچہ اس نے یہ