خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 493
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۹۳ خطبہ جمعہ کے دسمبر ۱۹۷۹ء اس کا ئنات کی ہر شے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکے اور خدمت لے سکے۔میں نے بتایا ۱۹۷۶ء میں اس نے ایم ایس سی فزکس کا ریکارڈ توڑا۔کچھ لوگ تھے یہاں وہ پچھلے ریکارڈ سے اتنا آگے نکلا کہ بعض لوگوں نے یہ باتیں شروع کر دیں کہ ایک احمدی ہے بچہ، اس نے ریکارڈ توڑ دیا، اتنے نمبر لے لئے ، آگے کون آئے گا، پھر اس کا ریکارڈ توڑنا بڑا مشکل ہو جائے گا۔اس قسم کی باتیں شروع کر دیں۔اس سال اسی یو نیورسٹی سے یعنی یو نیورسٹی آف دی پنجاب سے ہماری ایک احمدی لڑکی نے اس لڑکے کا ریکارڈ توڑ دیا۔تو جو خدا تعالیٰ کی عطا ہے اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کو سنبھالنا چاہیے۔میں نے بڑا سوچا اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی ہر عطا ہی عظیم ہے اور اس کا ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے بڑی عظیم یہ نعمت ہے اللہ کی کہ کسی گھر میں ذہین بچے پیدا ہو جائیں، ذہن رسا سے زیادہ اور بڑی کوئی عطا نہیں کیونکہ ہر قسم کی خدمت پھر عطا سے فائدہ اٹھانے کی قابلیت ذہن کے ذریعہ سے ہی ہوتی ہے نا۔تو میں بتایہ رہا ہوں جماعت کو کہ جو اس قسم کے بچے ہیں ان کو تو ہم نے بہر حال سنبھالنا ہے خواہ کتنی مالی قربانی دینی پڑے جماعت کو لیکن جو ان سے ذرا نیچے ہیں مثلاً واضح کرنے کے لئے، یہاں بچے بڑے بہت پڑھے ہوئے زمیندار بھی ہیں۔وہ سمجھ جائیں گے میری بات، ذرا نیچے سے۔میں بڑا لمبا عرصہ کالج کا پرنسپل بھی رہا ہوں۔یو نیورسٹی کی طرف سے کچھ وظائف ہوتے ہیں۔کچھ محکمہ تعلیم کی طرف سے وظائف ہوتے ہیں وہ مثلاً، اگر کسی نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان دیا تو سو دوسو، کافی تعداد ہے وظائف کی، یونیورسٹی یا محکمہ تعلیم کی طرف سے وہ وظائف مقرر ہیں۔چوٹی کے اتنے لڑکوں کو وہ وظیفہ مل جاتا ہے۔فرض کریں کہ مثلاً جس نے ۶۴ فیصد نمبر لئے کم از کم معیار جو وظیفہ لینے والوں میں سے تھا وہ اس کا تھا یعنی باقی سب نے ۶۴ فیصد سے زیادہ نمبر لئے اور سب سے کم وظیفہ لینے والے نے ۶۴ فیصد نمبر لئے۔اس سے نیچے ہے ۶۳ فیصد والا اور ۶۳ اور ۶۴ میں بڑا فرق نہیں لیکن قانون اس کو وظیفہ نہیں دے رہا ہے۔ذہین اور ایسا ذہین بھی ہے بعض دفعہ کہ وہ اگلے امتحان میں اپنے اوپر کے بچوں سے آگے نکلنے والا ہے۔اس کو