خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 483
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۸۳ خطبہ جمعہ ۳۰ /نومبر ۱۹۷۹ء محاورے قرآن کریم کے محاورے کے لحاظ سے آجاتا ہے اور میں ان راہوں کی نشاندہی کرتا ہوں جن پر چل کے تم خدا کے قرب کو حاصل کر سکتے ہو اور اس کے پیار کو پاسکتے ہو۔وَلَا يَسْمَعُ الصُّم الدُّعَاء إِذَا مَا يُنْذَرُونَ (الانبیاء : ۴۶) اور جب اس شخص کو جس کے کان کو ابھی حکم باری نہیں ملا کہ وہ وحی کی آواز کو سنے وہ نہیں سنتا۔جب وہ انذار ہو اس کو کہا بھی جائے ، بتایا جائے ، نشان دہی کی جائے ،عقل بھی ہے دوسرے ہوش و حواس بھی ہیں مگر خدا تعالیٰ کا حکم نہیں نازل ہوا تو یہ جو معنی میں کر رہا ہوں یہ اس آیت کے مطابق ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے میں نے مہر لگادی ہے لیکن وہ اپنا مستقل ایک مضمون ہے اپنے اپنے وقت پر بیان ہوتے رہتے ہیں۔پھر سورہ زمر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ (الزمر : ۱۹) پہلے تو یہ تھا نا سنتے نہیں۔اس میں یہ ہے کہ سنتے ہیں پھر ان کو اللہ تعالیٰ یہ بھی ہدایت دیتا ہے اس فرد واحد کو ، آتا ہے کہ تو سن اور سمجھ۔پھر وہ پوری طرح سمجھتا ہے تو ہر تعلیم کے متعلق بنیادی حکم یہ ہے کہ عمل صالح کرو جو موقع اور محل کے مطابق ہو۔بندے کو اختیار دیا گیا ہے نا اور اسی وجہ سے اس کو ثواب ملتا ہے وہ سوچتا ہے کہ کون سا احسن طریق ہے اس حکم خداوندی پر عمل کرنے کا اس کے مطابق وہ عمل کرتا ہے تو الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَولَ جو بات کو سنتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت پھر جو سب سے بہتر عمل ہے اس کے نتیجہ میں فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ اس کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں۔أُولَبِكَ الَّذِينَ هَدُ بهُمُ اللهُ یہ عمل اس واسطے احسن کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے رہا ہے اپنے زور سے نہیں وہ کر سکتے۔ان کے اوپر احسن عمل کرنے کے لئے آسمانی ہدایت نازل ہوتی ہے اس شخص پر وَ أُولَيكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ اور حقیقی اور صحیح معنی میں یہی لوگ عقلمند کہلا سکتے ہیں کیونکہ جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی اس غرض کو وہ پورا کرنے والے ہیں۔تو عقل تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی لیکن اس کے لئے دو ہدا یتیں دو قسم کے دو پہلوؤں کی ہدایت نازل کی۔ایک عام قانون جس طرح قانونِ قدرت ہے اسی طرح قانونِ ہدایت بھی ہے۔یہ جو شریعت ہے۔یہ ہدایت کے لئے ساری تعلیم ہے نا مگر کوئی شخص صرف قرآن کریم کو