خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 482 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 482

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۸۲ خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۷۹ء خدا تعالیٰ اگر اس کو آزمائش میں ڈال رہا تھا تو خدا نے فیصلہ کیا کہ اب میں اس کو آزمائش سے نکالتا ہوں زبانِ حال کی دعا اس کو ہم کہتے ہیں۔اس کو اس نے سنا، وہی بیمار، وہی بیماری ، وہی دوا کھائی اس نے اور اس کو آرام آگیا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ پہلے دو حکم نازل ہوئے جب آرام نہیں آ رہا تھا ایک دوا کو کہ اثر نہ کرو۔ایک جسم کے اجزاء کو کہ قبول نہ کرو اور جب خدا نے فیصلہ کیا کہ اب اس کو شفا دینی ہے تو دو نئے حکم نازل ہوئے۔دوا کو کہا اثر کر اور جسم کے کیمیاوی اجزاء کو کہا کہ اس دوا کے اثر کو قبول کر۔یہ قانونِ قدرت کا حصہ نہیں ہے۔یہ امر کے اندر آتا ہے یعنی ہر واقعہ یا ہر تبدیلی جو ہوتی ہے اس کا ئنات میں وہ آسمان سے ایک حکم اترتا ہے تب ہوتی ہے۔بے شمار حکم ایک گھنٹے کے اندر اتر رہے ہیں کائنات میں اللہ تعالیٰ ہماری زبان سے تو نہیں بولتا کہ مختصر زبان میں یہاں بول رہا ہوں۔کسی اور جگہ بات ہی نہیں کر سکتا۔میرے لئے ممکن نہیں۔خدا تعالیٰ کا تو کائنات کے ہر ذرے پر کلام نازل ہوتا ہے۔اس کا امر جو ہے وہ نازل ہوتا ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق متصرف بالا رادہ ہے۔ہر چیز میں تصرف اپنے ارادہ سے جیسے چاہتا ہے اس کے مطابق وہ کرتا ہے۔يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ انسان! انسان کا یہ فرض تھا۔انسان کی پیدائش کی یہ غرض اس کی زندگی کا یہ مقصد تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت اور پیار کا ایک زندہ تعلق پیدا کرے۔اس کے لئے ایک تو وحی ، قانونِ قدرت کے مطابق وقتا فوقتا اللہ تعالیٰ کے نیک بندے آتے رہے۔انبیاء آئے جن پر شریعتیں نازل ہوئیں۔ایسے نبی پیدا ہوئے جنہوں نے يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ (المائدة : ۴۵) انہوں نے پہلی شریعت کے مطابق لوگوں کی ہدایت کے اور ان کی تربیت کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کی اور پھر ایک کامل شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور افراد اور نوع انسانی بحیثیت مجموعی خدا کے دربار میں داخل ہو، اس کے سامان پیدا ہونے شروع ہو گئے سورۃ انبیاء میں ہے۔قُلْ إِنَّمَا انْذِرُكُم بالوخی (الانبیاء : ۴۶) جو میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ ان راہوں کو اختیار نہ کر و جو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہیں تو اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا۔وحی نازل ہوتی ہے کہ میں تمہیں کہوں کہ تم ان راہوں کو اختیار نہ کرو اور اس کے ساتھ وہ دوسرا پہلو بھی عربی کے