خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 481
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۸۱ خطبه جمعه ۳۰ /نومبر ۱۹۷۹ء پیشوائی کے لئے نکلتی ہیں اور سینکڑوں سال ہو گئے ان کو مرے اور عزت کے ساتھ ان کا نام لیا جارہا ہے کہ جی اس نے بجلی ایجاد کی۔جس نے ترقی کی اور ہر جگہ یہ پنکھے چل رہے ہیں۔یہ روشنیاں ہو رہی ہیں۔بڑا احسان کیا ہے اس نے ہزاروں عقلمندوں میں سے کم ہیں جن کی عقل روحانیت کے میدان میں صحیح نتیجہ پہ پہنچی اور انہوں نے اپنے خدا کو پہچانا اور جس کی حمد واجب آتی ہے۔ہر انسان پر اس کی انہوں نے حمد نہ کی اور تکبر سے انہوں نے کام لیا اور خدا تعالیٰ کا بندہ بننے یا کی بجائے شیطانی راہوں کو انہوں نے اختیار کیا اور اعلان کر دیا کہ ہم دنیا سے اللہ تعالیٰ کے نام کو اور آسمانوں سے اس کے وجود کو مٹا دیں گے۔عقلمند ہی ہیں ناوہ۔تو عقل کے ہر استعمال پر آسمانی روشنی ، آسمانی وحی ، آسمانی حکم امر کی ضرورت ہے یہ دوسرا قانون ہے۔سورۃ طہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔رَبُّنَا الَّذِى اَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى (طه: ۵۱) ہر چیز کو اس نے پیدا کیا۔اس میں طاقتیں رکھیں اس کو صلاحیتیں بخشیں۔اس کو استعدادیں عطا کیں۔پھر ان کے استعمال کے لئے اس کو طریقہ سکھایا اور سامان پیدا کئے ان کے لئے۔یعنی دو چیز میں اس نے پیدا کیں۔سامان پیدا کئے ان کی نشوونما کے۔مثلاً گندم کا دانہ ہے وہی مثال لوں پھر ، گندم کے دانے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک تو عام قانون کے مطابق اس میں قو تیں رکھیں۔ایک جہاں سے اس نے اپنا سامان لینا تھا۔نشوونما کا سائل (Soil ) میں فرٹیلیٹی (Fertility) رکھی یعنی وہ اجزا ر کھے جن سے گندم کا دانہ قوت حاصل کر کے بڑھ کے ایک سے سات سو تک بھی بن سکتے ہیں خدا تعالیٰ کے فرمان کے مطابق۔ابھی تک انسان اس قابل نہیں ہوا۔ناقص ہے اس کی عقل لیکن بن سکتے ہیں اور سامان پیدا کئے یعنی نشو و نما کی طاقتیں رکھیں۔نشو ونما کے سامان پیدا کئے۔پھر حکم ہوا کہ ان سے فائدہ اٹھاؤ۔اجزاء کو حکم ہوا کہ ان کو فائدہ پہنچاؤ۔دوائی، بیمار ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے کہ ایک وقت میں ایک بیمار کو ایک دو اصحت نہیں دیتی دوائی کا کوئی اثر نہیں۔ڈاکٹر کی تشخیص بھی صحیح اس کا نسخہ بھی صحیح اس کے اجزا بھی درست اس کے بیچ میں ملاوٹ نہیں چاک کی اور وہ کھا رہا ہے اس کو آرام نہیں آرہا اور دس پندرہ دن، ہمیں دن گذر گئے پھر خدا تعالیٰ کے کسی بندے کی دعا یا اس کی اپنی دعا یا