خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 33

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۳ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۹ء اگلی آیت میں کہا فان تولوا کہ اگر کوئی تمہاری عظمت کو نہ پہنچانے اور اس تعلیم اور شریعت اور ہدایت سے پھر جائے ، منہ موڑ لے، پیٹھ پھیر لے تو اس کا تم پر رد عمل یہ ہے کہ قُلْ حسبی الله کہو کہ میں مُسَيْطِر نہیں ہوں کہ تمہیں زبر دستی ایمان لانے پر مجبور کروں خواہ تمہارے دل میں ایمان نہ ہو اور نہ مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں تمہیں اس دنیا میں کوئی سزا یا عذاب دوں۔اس دنیا کے عذاب کے متعلق انذاری پیشگوئیاں میری وساطت سے تم تک پہنچی ہیں لیکن ان پیشگوئیوں کو پورا کرنا اس رنگ میں جس رنگ میں کہ یہ پوری ہوں گی یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آپ قیامت تک کے نوع انسان کی خدمت کرنے والے اور حیوانوں کی خدمت کرنے والے اور دوسری مخلوقات کی خدمت کرنے والے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے کہا کہ یہ اعلان کر دو کہ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور میرا تم پر کوئی احسان نہیں۔میں تمہارے لئے تو یہ کام نہیں کر رہا میں تو اپنے خدا کے پیار کے حصول کے لئے یہ کام کر رہا ہوں۔پس یہ اعلان کرو کہ حسبی اللہ اللہ میرے لئے کافی ہے۔کسی اور سے اجر کی یا بدلے کی مجھے ضرورت نہیں۔نہ خواہش ہے اور نہ میں لینا چاہتا ہوں لا الهَ الا ھو ایک واحد یگانہ ہے جس کے امر سے اور اس کے عشق میں مست ، بنی نوع انسان کی اور دوسری مخلوقات کی خدمت پر لگا ہوں عَلَیهِ تَوَكَّلْتُ۔اسی خدائے واحد ویگانہ پر میرا تو گل ہے۔وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ اور وہ مالک کو نین ہے۔رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ کے ایک معنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر دو جہان کے مالک کے بھی کئے ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر دو جہان سے اپنے تقدس اور اپنی بزرگی کے لحاظ سے اس بلند مقام پر ہے کہ جہاں سے ہر دو جہان اس کی نظر کے نیچے ہیں اور وہ عَلامُ الْغُيُوبِ ہے، کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے پس وہ ہستی جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں اس پر میرا تو گل ہے وہ جو مالک ہے اور قادر ہے اور پیار کرنے والا ہے اور اتنی نعماء دینے والا کہ جن کا کوئی شمار نہیں۔اس پر میرا تو گل ہے حسبى الله وه خدا میرے لئے کافی ہے۔مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔تمہارے ساتھ میراتعلق شفقت کا ہے، تمہارے ساتھ میرا تعلق اس پریشانی کا ہے کہ تم گناہ میں ملوث ہوکر خدا تعالیٰ سے دور کیوں