خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 453 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 453

خطبات ناصر جلد هشتم بھی آگ میں جل رہا ہے۔۴۵۳ خطبہ جمعہ ۹ / نومبر ۱۹۷۹ء تو یہاں یہ فرمایا گیا کہ جو خدا العزیز ہے طاقتور ، عزت والا ، غالب جس کا غلبہ اور جس کی طاقت ہر شے ہر قوت کی دسترس سے بالا اور کوئی طاقت اتنی نہیں جو اس کو مغلوب کر سکے کوئی۔منصوبہ ایسا نہیں جو اسے عاجز بنا سکے اور حمید ہے جو اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہیں ان کے اندر بھی وہ حسن اور وہ احسان کی طاقت پیدا کرتا ہے کہ دنیا ان کی تعریف پر مجبور ہو جاتی ہے۔وہ مالک ہے متصرف بالا رادہ ہے۔قانون کے اوپر نہیں اس نے ہر چیز کو چھوڑ ا ہوا۔قانون بھی اسی کا چلتا ہے لیکن قانون در قانون اس طرح اس نے بنا دیا ہے کہ انسانی عقل تو ان گہرائیوں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔اور وہ شہید ہے۔اس خدا سے، یہاں چونکہ یہ باتیں تھیں جو دشمن کے دل میں آگ بھڑ کانے والی حسد پیدا کرنے والی جب تک معرفت حاصل نہ ہو اور توبہ کا دروازہ نہ کھلے دشمنی میں ان کو بڑھانے والی ہیں ان صفات کا یہاں ذکر کر دیا کہ مومن باللہ ہیں کہ چونکہ وہ ایک ایسی ہستی پر ایمان لائے کہ جو اللہ ہے تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ، ہر عیب سے پاک اور ان صفات میں صفت عزیز ہے اس کی ایک صفت۔پھر الحمید ہے وہ، پھر الْمَالِك ہے وہ، پھر وہ شہید ہے اور یہ صفتیں جو یہاں بیان ہوئی ہیں یہ دشمنی کا باعث بنتی ہیں اس لئے یہاں ذکر کیا گیا ہے اور یہاں یہ نتیجہ نکلتا ہے ان آیتوں پر غور کر کے کہ تمہیں تمہاری دشمنی اور تمہارے منصوبوں کے مطابق خدا جزا دے گا۔چھپے ہوئے تو نہیں ہو تم یا تمہارے منصوبے یا تمہاری دشمنیاں اور جو اس کے مومن بندے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے نتیجہ میں ، جو خدا سے ان کو پیار ہوگا ، اس کے نتیجہ میں جو اللہ تعالیٰ کے نور سے وہ حصہ لینے والے ہوں گے اس کے نتیجہ میں، جو توحید حقیقی پر قائم ہونے کی وجہ سے کہ اپنے آپ کو محض لاشے سمجھنا اور کچھ نہ سمجھنا، سب کچھ کر کے سمجھنا کہ ہم نے کچھ نہیں کیا کیونکہ سب کچھ اسی کا تھا اس کے سامنے لوٹا دیا ہے کون سا احسان کیا اپنے ربّ پر۔احسان تو اسی کا ہے ہم پر۔تو یہ صفات ، جو اللہ ان کے دلوں کے حالات اور اسرار کو جاننے والا ہے جو مومنوں کے دلوں کے حالات اور اسرار کو جاننے والا ہے وہ مومنوں کو ان کے حالات کے لحاظ