خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 452
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۵۲ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۹ء متصرف بالا رادہ رب کی صفت کے جلوے مخالف دیکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت نہیں رکھتا یا منکر باری ہے یا صحیح حقیقی تو حید پر قائم نہیں، تو اس کے دل میں حسد پیدا ہوتا ہے۔جلن پیدا ہوتی ہے۔مُوْتُوا بِغَیظُكُمْ غیظ اور بھی پیدا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں منصوبے اور بھی تیز ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ نازل ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فرشتے اور بھی زیادہ آتے ہیں اور اسلام کی اور مومنین کی اس جماعت کی حفاظت کرتے ہیں۔پھر کوئی منصوبہ چھپ کے خدا کے خلاف کیا نہیں جاسکتا۔ایک تو اپنے عزیز ہونے کے لحاظ سے پھر حمید ہونے کے لحاظ سے کوئی فعل ایسا تو نہیں خدا کرسکتا کہ جو اس کے اوپر اعتراض آجائے کہ خدا تعالیٰ تو نے جو بشارتیں دی تھیں اپنے بندوں کو وہ پوری نہیں ہو ئیں تو پھر حمد تو نہیں ہوگی نا۔حمد تو اسی وقت ہوگی کہ جو خدا نے کہا ویسا پورا کر دکھایا اور وہ کرتا ہے اور کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہے اس کے علم نے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے اور یہ Surprise کا Element جنگ اور مقابلے میں فوجوں نے اصطلاح بنائی ہوئی ہے۔وہ فوجوں کی اصطلاح ہے کہ جیتنے کے لئے ایک سرپرائز (Surprise) اچانک، لاعلمی میں۔لاعلمی میں حملہ کرتے ہیں۔یہ ایک بہت بڑا ہتھیار ہے جس کو دشمن یا مد مقابل استعمال کرتا ہے لیکن خدا کے مقابلے میں سرپرائز (Surprise) تو نہیں۔لاعلمی میں حملہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہر چیز کا اس کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے۔تمہارے دل میں جب خیال پیدا ہوتا ہے اس کا اس کو علم ہے تم جب اپنی مجلس میں بیٹھ کے کوئی منصوبہ زیر بحث لاتے ہو اس کا اسے علم ہے۔جب کسی فیصلے پر پہنچتے ہو اس کا اسے علم ہے۔جب اس فیصلے کے مطابق تم مادی سامان پیدا کرتے ہو اس کا اسے علم ہے، جب اس فیصلے کو کامیاب کرنے کے لئے ضرورت کے مطابق تم تربیت دیتے ہو اس کا اسے علم ہے۔تو لاعلمی میں تو کوئی حملہ خدا کے منصوبہ پر نہیں ہو سکتا تو اس سے بھی جو منکرین ہیں، مخالفین ہیں، جو دشمنی کرنے والے ہیں، مومنین کی جماعت سے وہ بڑے تلملاتے ہیں کہ کوئی راہ ان کو اپنی کامیابی کی نظر نہیں آتی۔دکھ دیتے ہیں لیکن مومنین کی جماعت دکھ سہہ لیتی ہے اور ان کے لئے دعائیں دیتی ہے اور ان کے لئے جو حریق کا ہے کہ دل بھی ان کے آگ میں جل رہے ہوں گے وہ دعاسن کے ایسا آدمی تو اس کا دل