خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 449
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۴۹ خطبہ جمعہ ۹ / نومبر ۱۹۷۹ء کرنے پر قادر تو الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے کہ ہر دو جہاں کی ہر شے میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کر سکتا ہے اور تصرف جو ہے وہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک قانون کا تصرف، جو دنیا کی بادشاہتیں کرتی ہیں، قانون بنا دیتی ہیں اور پھر ان کے کارندے جو ہیں وہ اس کے مطابق شہری زندگی چلاتے ہیں۔غلطی کرتے ہیں کبھی ٹھو کر کھاتے ہیں کبھی قانون کے مطابق کام کر رہے ہوتے ہیں۔انسان ہے، قانون بھی کمزور اس کا اور اس کا اجرا کرنے والے بھی ہزا ر ضعف رکھتے ہیں اپنے اندر لیکن خدا تعالیٰ ” قَادِرُ عَلَى التَّصَرُّفِ “ قانون کے لحاظ سے بھی ہے یعنی اس نے کائنات کی ہر چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ایک عظیم قانون سے وابستہ کیا ہوا ہے۔اسی واسطے ہمارے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے نوبل پرائز لے لیا نا۔ایک نیا قانونِ باری ایک نئی جھلک اس صفت کی ان کی تحقیق نے معلوم کی لیکن خدا تعالیٰ صرف قانون کے ساتھ تصرف نہیں کرتا۔بلکہ وہ متصرف بالا رادہ ہے اس نے صرف یہ قانون نہیں بنایا کہ بعض درخت موسم بہار میں پت جھڑ کرتے ہیں۔موسم بہار میں جان کے کہہ رہا ہوں خزاں کی بجائے۔بعض درخت ایسے ہیں جو موسم بہار میں پت جھڑ کرتے ہیں اس نے یہ قانون بنایا ہے، قانونی تصرف بھی ہے اس کا ، کہ یہ درخت جو ہیں درختوں کی یہ قسمیں یہ موسم بہار میں اپنے پتوں کو گرا دیں گی اور نئے پتے اُگیں گے ان میں لیکن وہ متصرف بالا رادہ ہے اس قانون کے ہوتے ہوئے بھی۔ہر پتہ جو گرتا ہے وہ اس کے حکم سے گرتا ہے، ایک دفعہ دیر کی بات ہے میں کالج کی لاج میں رہا کرتا تھا تو ایک ایسا ہی درخت ہمارے گھر کے صحن میں بھی لگا ہوا ہے۔ایک دن اس طرف میرا خیال گیا۔پت جھڑ کا موسم تھا میں نے کہا دیکھیں خدا تعالیٰ کا تصرف بالا رادہ جو ہے وہ کس رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔تو شام کے وقت ، پت جھڑ ہو رہی تھی نا ایک وقت میں تو سارے پتے نہیں جھڑ جاتے ، کچھ پتے زرد کچھ زیادہ زرد کچھ کی پتے کے ساتھ ایک چھوٹی سی ڈنڈی ہوتی ہے جو ٹہنی کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہے وہ بھی جب تک زرد نہ ہو وہ جھڑتے نہیں اور کچھ سبز بالکل۔تو میں تین چار پتے شام کو دیکھتا تھا زرد، نیم زرد اور بالکل سبز اور صبح جا کے دیکھتا تھا اس درخت کے نیچے تو سبز پتہ نیچے گرا ہوا ہوتا تھا اور زرد پتا درخت کے اوپر لگا ہوا ہوتا تھا۔