خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 448
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۴۸ خطبہ جمعہ ۹ / نومبر ۱۹۷۹ء لوگوں کی زندگیوں میں جو حقیقی طور پر موحد ہیں اور خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق رکھنے والے ہیں۔یہ سارے جلوے جو ہیں یہ خدا تعالیٰ کی حمد کی طرف انسان کو متوجہ کرتے ہیں وہ حمید ہے، سب تعریفوں کا مرجع بھی وہ ہے اور سب حقیقی تعریفوں کا مستحق بھی وہ ہے اور جو اس سے تعلق رکھنے والے ہیں ان سے بھی پسندیدہ افعال سرزد ہوتے ہیں (اللہ عزیز ہے اور سب سے بڑی طاقت انسان کی یہ ہے کہ وہ یہ یقین کرے کہ مجھ میں کوئی طاقت نہیں لیکن جس خدا پر میں ایمان لایا ہوں اس میں ہر طاقت موجود ہے اس واسطے مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ) جو خدا کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہے وہ تو خدا تعالیٰ کی ہدایت میں خدا تعالیٰ کے تصرف کے نیچے آ گیا اس سے بھی ایسے افعال سرزد ہوں گے کہ جس طرح سب تعریفوں کا مرجع اور مستحق اللہ ہے خدا تعالیٰ اس کی بھی حمد کرتا ہے آسمانوں سے اور لوگوں کی نگاہ میں بھی ان کو ایسا بنادیتا ہے۔ایک بت کی شکل میں نہیں ایک ایسے فعال وجود کی شکل میں جس کا ہر فعل نوع انسانی کی خدمت میں ، ان کے دکھوں کو دور کرنے میں، ان کے لئے سکھ کے سامان پیدا کرنے میں لگا ہوا ہے۔لوگ اس کی تعریف کریں گے۔تعریف دو طرح کی جاتی ہے یا حسن کے نتیجہ میں یا احسان کے نتیجہ میں۔حقیقی محسن خدا تعالیٰ کا ہے اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) اور احسان تو کسی اور کا تصور میں بھی نہیں آسکتا۔اس نے پیدا کیا، اس نے طاقتیں دیں۔اس نے ہر دو جہان کی ہر چیز کو خادم بنادیا انسان کا۔اس سے بڑا اور کیا احسان ہو سکتا ہے کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نبی ہمارے لئے بطور راہبر اور ہادی کے مبعوث کر دیا تو جو اس کے کہنے پر اور اس کے حکم کے مطابق اپنے اندر اپنے وجود میں اپنے افعال میں نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کی جھلک رکھتا ہوگا ، وہ حُسن اس میں پیدا ہو گیا۔جو شخص خدا تعالیٰ کے احکام کے مطابق دنیا کے محسن اعظم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دنیا پر احسان کرنے والا ہوگا اس سے بڑا کون احسان کرنے والا ہے سب لوگ اس کی تعریف کرنے لگ جائیں گے۔دشمن بھی تعریف کرتے ہیں ایسوں کی اور اپنے بھی کرتے ہیں۔الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ الْمَلِكُ کے معنے ہیں الْعَظمَةُ وَ السَّلْطَةُ عظمت اور رعب ، اور المَلِكُ کے معنی ہیں صَاحِبُ الْأَمْرِ وَالسَّلْطَةُ نيز قَادِرُ عَلَى التَّصَرُّفِ ، تصرف