خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 447 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 447

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۴۷ خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۷۹ء کرتے ہیں مومنین باللہ سے وہ کسی دلیل پر کسی صداقت پر کسی بچے واقعہ پر مبنی نہیں ہوتی۔وہ دشمنی صرف اس لئے کرتے ہیں کہ مومن اس اللہ پر ایمان لے آئے جو تمام صفاتِ حسنہ سے مقصف اور ہر قسم کے نقص اور کمزوری سے مبرا ہے۔وہ ہر قسم کی صفاتِ حسنہ سے متصف ہے۔ان صفات میں سے جو صفات اس دشمنی کی وجہ بنیں ان کا یہاں ذکر کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کے بندوں کی دشمنی وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صفت عزیز سے متصف ہے اللہ تعالیٰ صفت حمید سے متصف ہے اللہ تعالیٰ مالک ہے۔صفت مالکیت سے وہ متصف ہے اور اللہ تعالیٰ صفت شہید سے متصف ہے چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ چار صفات اپنے ان بندوں کی زندگی میں اپنے جلوے دکھاتی ہیں جن کا وہ مشاہدہ بھی کرتے ہیں اس لئے حسد کی آگ ان کے دلوں میں بھڑکتی ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والوں سے دشمنی کرنے لگ جاتے ہیں۔صفت عزیز کے کئی معنی ہیں۔ایک تو اس کے معنی ہیں بڑی طاقت والا بڑے غلبہ والا اور ایسا غالب کہ الْمَنِيعُ الَّذِي لَا يُنَالُ وَلَا يُغَالَبُ وَلَا يُعْجِرُه شَيْءٍ کہ جو انسانی منصوبوں اور انسانی دشمنیوں اور انسانی کرتوتوں کی دسترس سے بالا ہے (لا يُنَالُ ) اور دنیا کی ساری طاقتیں مل کر اس پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتیں (وَلا يُغَالَب وَلَا يُعْجِزُهُ شَيْءٌ ) اور جو وہ کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت دنیا کا کوئی منصوبہ اسے اس کے منصوبوں میں نا کام نہیں کر سکتا عاجز نہیں بنا سکتا۔پھر عزیز کے معنے ہیں المکترم وہ صاحب عزت ہے اور عزت کا سرچشمہ ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا (فاطر: ۱۱) کہا گیا ہے۔وہ عزیز ہے۔جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس جہان اور اگلے جہان میں صاحب عزت و اکرام ہوا سے چاہیے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب سے تعلق قائم کرے اور حقیقی عزت اس سے حاصل کرے نہ کہ دنیا کے دوسرے عزّت کے جھوٹے سرچشموں سے حقیقی عزت کے وہ سرچشمے نہیں ہیں۔اصل عزت دینے والا خدا تعالیٰ کی ہستی اور ذات ہے اور اپنی اس صفت کے جلوؤں میں کہ وہ طاقت کا سرچشمہ ہے، وہ عزت کا سر چشمہ ہے ، وہ ہر پہنچ سے دور ہے، کوئی اس پہ غالب نہیں آسکتا، کوئی اسے عاجز نہیں کر سکتا اس کی صفات کے جلوے ان کو نظر آتے ہیں اس دنیا میں خصوصاً (جہاں تک انسان کا تعلق ہے ) ان