خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 419
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۱۹ خطبه جمعه ۱۲ /اکتوبر ۱۹۷۹ء مقام محمود جو ہے ہر شخص کے دائرہ استعداد کے اندر یعنی سب سے بلند مقام جو وہ شخص حاصل کر سکتا ہے وہاں تک وہ پہنچ جائے گا۔اگر وہ محض فرائض تک رہے گا تو دوزخ سے بچ جائے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زمیندار آئے باہر کے علاقہ سے، کہنے لگے یہ فرض یہ فرض آپ کہتے رہے ہاں، کہنے لگا کہ میں سارے فرائض تو ادا کروں گا پر نفل میں نے کوئی نہیں پڑھنا تو جب اٹھ کے گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ اپنی بات پر قائم رہے کہ سارے فرائض ادا کر دے تو دَخَلَ الْجَنَّةَ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا جو اس کا انعام ہے لیکن جنت کے بلند مقام کا یہ حقدار نہیں بنے گا دوزخ میں نہیں جائے گا وہاں دَخَلَ الْجَنَّةَ اظہار اس بات کا ہے کہ پھر یہ دوزخ میں نہیں جاتا خدا نے جو فرائض اس کے لئے ضروری قرار دیئے تھے وہ اس نے پورے کر دیئے لیکن جنہوں نے اس دنیا میں اور آنے والی زندگی میں خدا تعالیٰ کے انتہائی پیار کو حاصل کرنا ہو وہ بغیر کسی بار کے جو محسوس کریں ذکر کی عادت ڈالیں۔یہ عادت کی بات ہے۔ذکر جو ہمیں اسلام نے سکھایا ہے عادت سے تعلق رکھتا ہے۔ایک دفعہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا میں کالج میں پرنسپل تھا تو جب امتحان کے پرچے بھجوائے جاتے تھے تو کئی سو دستخط کرنے ہوتے تھے اچھے پندرہ بیس منٹ لگ جاتے تھے ایک کلرک تیز کام کرنے کے لئے پاس کھڑا ہو اور قے الٹتا تھا مجھے خیال آیا میں نے اسے کہا کہ دیکھو میں ساتھ ساتھ تحمید اور تسبیح بھی کرتا ہوں جو آسانی سے سو، ڈیڑھ سو دفعہ ہو جاتی ہے۔دستخط بھی کرتا جاتا ہوں۔دستخط کرتے وقت سبحان اللہ کہنا دستخط کرنے میں روک تو نہیں وہ تو مسل (Muscle) کی عادت ہے کرتا ہے۔بڑی تیزی سے میں اپنے دستخط کرتا ہوں تو تم بھی ذکر کرو تم اپنا وقت کیوں ضائع کر رہے ( ہو ) تم ورقے الٹا ر ہے ہو ساتھ تسبیح وتحمید پڑھو۔اب مجھے تعداد یاد نہیں لیکن جس وقت دستخط ختم ہو گئے تو وہ کلرک مجھے کہنے لگا کہ آپ نے تو عجیب نسخہ بتایا میں اتنی دفعہ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظیم پڑھ چکا ہوں اور وہ بڑا خوش اورا یکسا ئیٹڈ (Excited ) تھا کہ اس وقت اس پہ کوئی دھیلہ خرچ نہیں آتا۔ایک منٹ آپ کی زندگی کا زائد خرچ نہیں ہوتا۔دنیا