خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 418
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۱۸ خطبه جمعه ۱۲ /اکتوبر ۱۹۷۹ء ہے کہ باپ اپنے بیٹے کو یا اللہ اپنے بندے کو جھنجوڑ کے کہتا ہے کہ پانچ وقت مسجد میں جا کے نماز پڑھ۔یہ فرض ہے کہتا ہے کہ نہیں کرے گا تو میں تجھ سے ناراض ہو جاؤں گا۔ناراضگی سے بچنے کے لئے فرائض ہیں۔فرائض کے ساتھ جو اس کی رحمتیں لگی ہوئی ہیں ان کے حصول کے لئے فرائض ہیں لیکن بلندیوں کے حصول کے لئے ( مسجد کے اندر دوسروں کے کندھوں پر سے آگے آتے ہوئے ایک شخص کو دیکھ کر حضور نے فرمایا :۔”دیکھو پیچھے سے چھلانگیں مار مار کے آگے نہ آؤ مسجد کے آداب بھی ہیں ان پر بھی صبر سے استقامت کے ساتھ قائم رہنا چاہیے اور وہ بھی سکھانے والے ہمارے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور یہ ہمارے علماء کا اور بڑوں کا اور تربیت یافتہ لوگوں کا کام ہے کہ وہ آداب زندگی ہر شعبہ زندگی کے متعلق بتاتے رہا کریں۔بہر حال اب میں یہ بتارہا ہوں کہ ایک عبادت ہے فرائض سے تعلق رکھنے والی اگر کوئی نہ کرے گناہ گار ہو جاتا ہے۔اگر کرے تو اس انعام کا وارث ہوتا ہے جس انعام کا اس فرض سے تعلق ہے ایک عبادت ہے نوافل سے تعلق رکھنے والی۔اگر وہ عبادت نہ کرے گنہگار نہیں ہوتا لیکن رفعتوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کے اس انتہائی پیار کو حاصل نہیں کر سکتا جس انتہائی پیار کے حصول کے لئے انسان کو پیدا کیا اور ہر انسان کو دائرہ استعداد تک اس رفعت کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے اس کو طاقتیں دیں۔اس کے لئے نوافل ہیں تو وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِي وَالْإِبْكَارِ میں فرائض بھی آتے ہیں کیونکہ ہم تسبیح اور تحمید اپنے فرائض میں بھی کرتے ہیں لیکن محض وہ نہیں بلکہ یہاں عام رکھا گیا ہے اور فرائض کی ادا ئیگی تھوڑی سی مشکل بھی ہو جاتی ہے نفس کے اوپر بار بھی گذرتا ہے ایک آدمی رات کو دیر تک کام کرتا رہا صبح کی نماز کے لئے اس کے لئے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے خدا نے میرے پر فرض مقرر کیا ہے میں جاؤں لیکن یہاں جو یہ کہا گیا ہے کہ صبح و شام ، دوسری جگہ کہا گیا ہے کھڑے ہو، بیٹھے ہو، لیٹے ہو، میرا ذکر کرتے رہو یہ تو خدا کا پیار مطالبہ کرتا ہے اور تمہارے اوپر کوئی بار نہیں ڈالتا۔یہ نہیں کہا کہ لیٹے ہو تو بیٹھ کے تسبیح اور تحمید کرو یہ کہا ہے لیٹے ہوئے کرو۔ہر وقت مجھے یاد رکھو تو