خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 417 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 417

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۱۷ خطبه جمعه ۱۲/اکتوبر ۱۹۷۹ء خدا تعالیٰ سے مغفرت چاہو، مغفرت کے دو معنی ہیں۔ایک یہ کہ گناہ سرزد نہ ہو انسان اپنی کوشش سے گناہ سے بچ نہیں سکتا۔اس طرح کہ وہ پاک اور مطہر بن جائے کیونکہ بتایا گیا تھا لا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ اپنی کوشش، اپنی تدبیر سے تم خدا کی نگاہ میں پاک اور مطہر نہیں بن سکتے اور دوسرے استغفار کے معنی یہ ہیں کہ گناہ سرزد ہو گیا اس کے بدنتائج سے انسان بیچنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن طاقت نہیں رکھتا۔طاقت خدا رکھتا ہے کہ جو اس سے گناہ سرزد ہوا اس کے بدنتائج سے وہ اپنی رحمت سے اسے محفوظ کرلے تو ایک تو استغفار ذریعہ بتایا کہ خدا سے کہو کہ خدا یا ہم پر ایسے فضل کر۔یہ استغفار کے معنوں کا حصہ ہے، ایسا فضل کر ہم پر کہ ہم سے گناہ سرزد نہ ہوں ایسی باتیں نہ کریں ہم، ایسے اعمال نہ بجالائیں جو تیری ناراضگی کا موجب ہوجائیں اور اگر بشری کمزوری کے نتیجہ میں ہم سے ایسے گناہ سرزد ہو جا ئیں تو ان کے بدنتائج سے ہمیں محفوظ کر لے۔ہمارے گناہوں کو معاف کر دے۔اور آٹھویں اور آخری بات جو اس وقت میں کہنا چاہتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتائی کہ جس فضل اور رحمت کا تعلق استغفار سے ہے انسان کہتا ہے اے خدا! اپنے فضل اور اپنی رحمت سے گناہ سر زد ہونے سے بچالے سرزد ہو جائے تو ان کے بدنتائج سے بچالے۔یہ فضل اور رحمت انسان اپنے زور اور طاقت سے یا اپنی تدبیر سے اللہ تعالیٰ سے حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے لئے یہ بتایا گیا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِي وَ الْإِبْكَارِ که صبح و شام اٹھتے بیٹھتے خدا کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔دوسری جگہ فرمایا يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ (ال عمران: ۱۹۲) تو خدا کی حمد میں مصروف رہو خدا کی تسبیح میں مصروف رہو اس کے نتیجہ میں فضل ملے گا فضل کے نتیجے میں گناہ کے سرزد ہونے سے محفوظ ہو جاؤ گے گناہ سرزد ہو جا ئیں تو ان کے بداثرات سے محفوظ ہو جاؤ گے۔استغفار کی دعا قبول ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوگا۔اگر تم خدا کو یا درکھو گے خدا تمہیں یا در کھے گا اُذْكُرُوا اللهَ يَذْكُرُكُمْ۔یہاں یہ بات بھی یادرکھنے کی ہے کہ ایک تو فرائض ہیں۔حکم ہے کہ یہ عبادات بجالاؤ۔ایک وہ عبادات ہیں جو فرائض نہیں نوافل کہلاتے ہیں۔فرض تو وہ