خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 27
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۷ خطبہ جمعہ ۱۲ / جنوری ۱۹۷۹ء دیتا ہے وہ کرتے ہیں تو یہ اس آیت کے مفہوم کے خلاف ہے۔یہ بات بھی صحیح ہے کہ ہر حکم جو خدا کی طرف سے انہیں ملتا ہے اس پر وہ عمل کرتے ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ ہر حکم پر عمل بجالانے کے نتیجہ میں ان کو ایک ذرہ بھر بھی انعام نہیں ملتا۔اطاعت ان کی فطرت میں ہے۔کس چیز کا انعام یا کس چیز کی سزا ؟ جزا اور سزا کا مفہوم ہی ایک کامل اور مکمل مذہبی آزادی اور آزائی ضمیر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس کو کھول کھول کر اللہ تعالیٰ نے بیان کر دیا اپنی عظیم کتاب قرآن مجید میں۔ایک خطبہ میں نے ۲۹؍ دسمبر کو دیا تھا۔اس میں دوسری آیات تھیں۔ایک آج دیا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم میں اس کے علاوہ اور آیات نہیں جن میں یہ مضمون بیان ہوا ہو۔قرآن کریم نے تو کہا ہے نُصَرِّفُ الآیتِ (الانعام : ۲۶) ہم مضمون پھیر پھیر کے مختلف پہلوؤں سے تمہارے سامنے رکھتے ہیں تا کہ تمہیں سمجھ آجائے ، عقل سے کام لینے کے قابل ہو جاؤ۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دونوں خطبے مل کر کافی وضاحت کر دیں گے ایک عقلمند کے لئے کہ اسلامی تعلیم ہے کیا ؟ یہ تعلیم ہے جس کے حسن نے عرب کے دل کو جیتا تھا وہ جو تیرہ سال محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کو انتہائی ظلم کا نشانہ بنانے والے تھے ، ان کو جیتا۔جبر نے جیتا تھا؟ کیا لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ اليَوْم کسی جبر کا اعلان تھا؟ یا پیار کا اور آزادی کا اعلان تھا! محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہا کہ لا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ تو اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔میرا کیا تعلق تمہارے ساتھ۔تمہیں خدا جزا دیتا ہے یا سزا دیتا ہے یہ اس کا کام ہے۔میں تم سے کوئی بدلہ نہیں لوں گا۔اتنی تکلیفیں اٹھا ئیں خود، ماننے والوں نے تکلیفیں اٹھا ئیں سارا کچھ وہاں چھوڑ دیا۔تو عجیب قوم تھی جن کے دل جیت لئے گئے تھے۔مکہ فتح ہو گیا۔ساری جائیدادیں اپنی جن کو چھوڑ کے گئے تھے اس طرح تھیں ان کی مٹھی میں۔مگر ایک اینٹ کا بھی کلیم (Claim ) نہیں کیا اور اسی طرح واپس چلے گئے ، مہاجر۔تو جبر سے نہیں ہوا کرتیں یہ باتیں۔نہ جبر اسلام میں جائز ہے۔قرآن کریم کھول کھول کے اس حقیقت کو بیان کر رہا ہے کہ اس حسین تعلیم میں کسی انسان پر خدا تعالیٰ کی راہوں کو اختیار کرنے ، نہ کرنے پر کوئی جبر نہیں ہے۔جو شخص ان راہوں کو اختیار کرے گا جن راہوں پر اسے