خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 405
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۰۵ خطبه جمعه ٫۵اکتوبر ۱۹۷۹ء کوشش کی وہ کامیاب ہو گیا اور پاکیزہ راہوں کی اگر خدا کے فضل سے اسے توفیق ملی ہے تو وہ نا کام نہیں ہوسکتا۔وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا اور قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَلی کے بعد خدا تعالیٰ کے پاس جو شخص مومن ہونے کی حالت میں آتا ہے مومن تو پہلے بھی آیات میں آیا تھا لیکن یہاں بالکل واضح ہے کہ مومن سے وہ مراد ہے جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مومن ہے اور جس کے اعمال میں شرک کی ، نہ شرک خفی ، نہ شرک جلی ، نہ ظاہر و باطن کسی قسم کے شرک کی کوئی ملونی نہیں۔وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا جس نے کوشش کی پاک اور مطہر ہونے کی اور خدا کے حضور وہ اس حالت میں پہنچا کہ خدا کی نگاہ نے بھی اسے پاک اور مطہر پایا اور قد عمل الصلحت اس حالت میں مومن کہ اس نے حالات کے مطابق نیک اعمال کئے تھے یعنی جہاں خدا نے جس رنگ میں جو عمل صالح کرنے کی اجازت دی تھی اور حکم دیا تھا اس کے مطابق وہ اعمال صالحہ بجالا یا تھا۔فَأُولَبِكَ لَهُمُ الدَّرَجتُ العُلى ( طه : ٧٦ ) يروه لوگ ہیں جو اعلیٰ درجہ پائیں گے۔یہ اعلیٰ درجہ کیا ہے؟ جنتُ عَدْنٍ ہمیشہ رہنے والی جنات ہیں۔یہیں شاید ایک خطبہ میں میں نے اس پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔خُلِدِينَ فِيهَا جو مکان ہے وہ بھی اپنی افادیت کو ہمیشہ قائم رکھنے والا اور اس سے جو کچھ جنتی حاصل کرتے ہیں۔کسی وقت بھی اس میں کمی نہیں آنے والی اور ان کی اپنی زندگی بھی نہ ختم ہونے والی ہے۔خُلِدِينَ فِيهَا ۖ وَ ذَلِكَ جَزُوا مَنْ تَزَكَّى (طہ:۷۷) یہ اس شخص کی جزا ہے جو خدا کے نزد یک پاک اور مطہر ٹھہرا لیکن جنہوں نے بڑے بڑے دعوے کئے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے لیکن خدا کی نگاہ میں وہ پاک اور مطہر نہیں ٹھہرے ان کی یہ جزا نہیں۔یہ جو آیات میں نے اکٹھی پڑھیں ان میں ہمیں پندرہ باتیں نظر آتی ہیں۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تم کو خوب جانتا ہے جیسا کہ میں نے بتایا وہ اس وقت سے جانتا ہے قرآن کریم کے کہنے کے مطابق جب ابھی زمین کے ذرات میں لوٹ پوٹ ہورہے تھے تمہارے اجسام، پھر جب تم اپنی ماں کے رحم میں پوشیدہ تھے اپنا تمہیں کچھ ہوش نہ تھا Consciousness یعنی یہ احساس نہ تھا کہ میں ہوں ماں کے پیٹ میں تو بچے کو یہ احساس نہیں ہوتا۔خدا کو تمہارا علم