خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 396 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 396

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۹۶ خطبه جمعه ۲۸ ر ستمبر ۱۹۷۹ء آیت میں ذکر ہے جو سیدھی میری رضا کی جنتوں کی طرف لے جانے والی ہے۔ان آیات سے ( کچھ تو میں نے ان کے ترجمے کے وقت بتادی ہیں اس کو دہرا دیتا ہوں ) جن باتوں کا پتا لگتا ہے وہ یہ ہیں کہ تمام انسانوں کے درمیان عدل کرنے کا حکم ہے تمام انسانوں کے درمیان۔وسرے یہ کہ دشمنی عدل کے خلاف آمادہ نہ کرے۔اس زمانہ میں بدقسمتی سے آپس میں أَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ کے باوجود فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا کے باوجود مسلمان مسلمان بھی لڑ پڑتے ہیں لیکن جو اس کے حقیقی مصداق تھے وہ تو ایسا نہیں کرتے تھے۔غیر مسلم کی دشمنیوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ ان کی دشمنیاں بھی ، اے میری بات ماننے والو! تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کریں کہ عدل کی جو تعلیم تمہیں دی گئی ہے تم اسے چھوڑ کے خیانت اور بے انصافی کی راہوں کو اختیار کرو۔ہمارا حکم یہی ہے کہ دشمن سے بھی عدل وانصاف کیا جائے۔تیسری بات یہ بتائی گئی کہ عدل تقویٰ کے سب سے قریب ہے۔اَقْرَبُ لِلتَّقْوی یعنی اگر تم میری پناہ میں آنا چاہتے ہو، اگر تم تقویٰ کی چادر میں اپنے وجود کو لپیٹ ( کر) شیطان کے تمام حملوں سے محفوظ رہنا چاہتے اور میرا پیار حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں عدل کے مقام پر قائم رہنا ہوگا۔چوتھے یہ بتایا کہ جب تک کوئی شخص عدل کے مقام پر مضبوطی سے قائم نہ رہے وہ یہ خیال دل میں نہ لائے کہ اسے پھر خدا کی پناہ بھی ملے گی اور اس کی مدد اور نصرت بھی حاصل ہوگی۔پانچویں یہ کہا کہ انصاف کرو اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو۔چھٹے یہ بتایا کہ جو عدل نہیں کرتے وہ پھر کسی خیر کی طاقت نہیں رکھتے۔فساد ہی پیدا کرنے والے ہیں۔ساتویں یہ بتایا کہ جو عدل نہیں کرتے وہ صراط مستقیم پر نہیں۔بھٹکے ہوئے ہیں۔مقصدِ حیات کو وہ حاصل نہیں کر سکتے۔آٹھویں یہ بتایا کہ خواہشات نفس کی پیروی عدل وانصاف کی راہ سے دور لے جاتی ہے۔اس واسطے ہوائے نفس کی پیروی نہیں کرنی اور نویں یہ بتایا (() جو اہل ہیں ان کو ان کی امانتیں دو اور (ب) جو فیصلے ہوں ان میں عدل ہو۔یہ دوسری آیت ہے جو پڑھنے سے رہ گئی ہے۔تُؤَدُّوا