خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 391
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۹۱ خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۷۹ء اور غیر مسلم کے مال میں خیانت کرتارہ، تجھ پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔مومن و کا فرکسی کے مال میں بھی خیانت نہیں کرنی۔جان کے حقوق میں نے بتائے ہیں۔یہ نہیں کہا کہ مسلمان کی جان نہ لے، غیر مسلم کی بغیر حق کے جان لے لے۔حق تو صرف حکومتوں کو ہے یا قصاص میں اگر وہ اسلامی اصول چل رہا ہو یا یہ نہیں کہا مسلمان کی زندگی دکھوں سے نہ بھر غیر مسلم کو ہر وقت دکھ دیا کر۔یہ بالکل نہیں کہا بلکہ یہ کہا ہے کہ مسلم ہو یا غیر مسلم جو تمہاری باہمی امانتیں ہیں ( قرآن کریم نے ان کی تفصیل دوسری جگہ بیان کی ہے ) وہ تمہیں ادا کرنی ہوں گی یہ نہیں دیکھنا ہوگا کہ جس کا یہ حق ہے وہ اللہ پر اس کے رسول پر ایمان لاتا بھی ہے یا نہیں لاتا۔عزت کے حقوق ہیں۔عزت کے حقوق میں جذبات کا خیال رکھنا بھی آجاتا ہے۔یہ نہیں کہا کہ مسلمان کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔یہ کہا کہ شرک ہے تو سب سے بڑا ظلم اور گناہ لیکن ایک مشرک کے جذبات کو بھی ٹھیس نہیں پہنچے گی تیری زبان سے۔لا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ (الانعام : ۱۰۹) یہ نہیں کہا کہ اگر مزدور مسلمان ہے تو اجرت کے حقوق اسے ادا کر ، اگر غیر مسلم ہے تو نہ کر۔یہ کہا کہ جس سے تو اُجرت لیتا ہے وہ مسلم ہے یا غیر مسلم، مومن ہے یا کافر، موحد ہے یا مشرک، جو بھی اس کا عقیدہ ہے جو بھی اس کے خیالات ہیں، جتنا اس نے کام کیا وہ اس کا حق بنتا ہے وہ امانت ہے تیرے پاس، اس کا حق ادا کر ، اس کی اُجرت پوری دے اور وقت پر دے۔یہ نہیں کہا کہ اہلیت کے لحاظ سے جو حقوق قائم ہوتے ہیں وہ مسلمانوں کے ادا کرو اور جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے خدا تعالیٰ پر یہ الزام لگاؤ کہ اس نے ان کو وہ اہلیت کیوں عطا کی اور غلطی کی خدا نے اور ہم اس کی اصلاح کرنے لگے ہیں۔یہ کہا جس کو خدا نے اپنے فضلوں سے، اپنی ربوبیت کے نتیجہ میں ، اپنی رحمانیت کے جلوؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمانیت تو مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کر رہی ) اہلیت پیدا کی ہے تم نے اس اہلیت کے حقوق کو ادا کرنا ہے اور اہل کو ان کی امانتیں دینی ہیں۔خیانت کرنے والا مسلمان بھی ہو سکتا ہے اور غیر مسلم بھی۔قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ اگر خیانت کرنے والا غیر مسلم