خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 386 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 386

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۸۶ خطبہ جمعہ ۲۸ ستمبر ۱۹۷۹ء خوشخبری دی گئی کہ امن اور آشتی اور سلامتی کی فضا تمہارے لئے اسلامی تعلیم پیدا کرے گی۔یہ امن کا مذہب سلامتی کا مذہب ہے۔یہ اعلان کیا گیا کہ تمہیں لڑنے نہیں دیا جائے گا بلکہ اگر تم اسلامی احکام پر کار بند ہو گے تو تمہارے لئے اخوت کی اور پیار کی اور امن کی فضا پیدا کرنے کی یہ تعلیم ہے، اس پر عمل کرنے سے امن کی فضا پیدا ہو جائے گی۔اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے شرف کو قائم کرنے کے لئے عزت کا وہ مقام جو خدا تعالیٰ نوع انسانی کو دینا چاہتا ہے۔وہ انسان کو دینے کے لئے محمدصلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور تمام انسانوں کے لئے یہ امکان پیدا کر دیا کہ قُلْ اِنَّمَا أَنَا بَشَر مثْلُكُم (الكهف : ۱۱۱) جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم معزز اور اشرف المخلوق کے سردار ہیں اسی طرح یہ مخلوق بھی بڑی عزت والی، بڑے احترام رکھنے والی مخلوق ہے۔اور اس کے لئے ضروری تھا کہ انسان، انسان میں تفریق نہ کی جائے بلکہ سب انسانوں کو مساوات کے ایک بلند مقام پہ لا کھڑا کیا جائے۔شروع سے لے کر آخر تک قرآن کریم کے احکام پر آپ غور کریں کہیں بھی مومن و کافر میں بحیثیت انسان فرق نہیں کیا گیا۔اس کے بعض پہلوؤں پر میں بعض خطبوں میں پہلے روشنی ڈال چکا ہوں۔آج میں نے دو احکام اسلامی لئے ہیں۔ایک کا تعلق نواہی سے ہے۔ایک کا تعلق اوامر سے ہے۔آج میں خیانت اور عدل کے متعلق جو اسلامی تعلیم ہے اس کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ انفال میں فرماتا ہے :۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا آمَنتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (الانفال: ۲۸)اے مومنو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی آپس کی امانتوں میں خیانت سے کام لو۔پھر سورۂ نساء میں فرمایا :۔وَلا تَكُنْ لِلْخَابِنِيْنَ خَصِيمًا (النساء : ۱۰۶) پھر سورۃ انفال میں فرمایا :۔إنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنِينَ (الانفال : ۵۹) لا تَكُن لِلْخَاسِنِينَ خَصِيباً خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والا نہ بن۔ان کی طرف داری نہ کر۔اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنِینَ کیونکہ اللہ تعالی خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں