خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 380
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۸۰ خطبہ جمعہ ۲۱ ر ستمبر ۱۹۷۹ء نعمتیں انسان پر نازل ہو جاتی ہیں کہ پھر سارا سال اگلا اگر وہ شکر ادا کرے تو اس دن کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکتا تو جو باقی ایک دن کم سارے سال کے دن ہیں ان کی نعمتوں کا شکر کیسے کر سکتے ہیں۔اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (لقمن : ۲۱) یہ کوئی تھیوری نہیں ہے، یہ کوئی اصول یا منطق نہیں ہے، یہ ایک حقیقت ہے اور حقیقت زندگی ہے۔دنیا نہیں دیکھتی اسے لیکن ہماری نظریں اسے دیکھتی اور پہچانتی ہیں۔اس لئے کہ عملاً ہماری زندگیاں اس کی گواہ ہیں۔تو یہ ذمہ داری ہے۔میں اہل ربوہ کو توجہ دلا رہا ہوں کہ آپ ابھی سے دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ اس جلسہ کو ان تمام برکات سے بھر دے جن برکات کی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے جماعت احمدیہ کو دی گئی اور جن برکات کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جلسہ کے تعلق میں دعائیں کیں۔بڑی دعائیں کیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے۔آپ بھی ابھی سے دعائیں کریں تا کہ اس بڑی بنیاد کے ساتھ وہ مینار پھر اٹھنے شروع ہوں۔اب تو آپ کہتے ہیں بچے ملا کے ہیں اکیس ہزار ہیں ربوہ میں۔آپ کی ایک آواز رڈ کی دنیا نے۔آپ کے لئے ووٹر بننے کے لئے فارم نہیں بنا اور آپ نے ووٹ نہیں بنایا لیکن آپ اگر خدا کے ہو جائیں تو آپ کی ہر آواز ہر پکار سننے کے لئے خدا تیار ہے۔تو گھاٹے والا سود ا تو نہیں ہوا یہ۔پس دعائیں کریں ابھی سے جلسے کے لئے۔اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے خیر اور برکت کا موجب بنائے اور ان دنوں میں جب اجتماعی رنگ میں دعا ئیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ماحول ہی ایسا پیدا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے ( یہاں آنے والوں کو جلسے کے موقع پر ) کہ ہم اپنے ملک کے استحکام اور اس کی سلامتی کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں اور وہ دعائیں مقبول ہوں اور بنی نوع انسان جو اس وقت ہلاکت کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں ان کے لئے ہم یہ دعا کرنے والے ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کو اپنے غضب اور قہر سے محفوظ رکھنے کے سامان پیدا کرے اور تقرب کی راہیں ان پر بھی اسی طرح کھلیں جس طرح آج وہ ہمارے پر کھولی گئی ہیں اور جو وعدے دیئے گئے ہیں اُمت محمدیہ کو کہ ایک زمانہ میں اسلام ساری دنیا میں غالب آجائے گا اور اسلام سے باہر رہنے والے کسی شمار میں نہیں ہوں گے۔اتنے تھوڑے کہ نام بھی ان کا کوئی نہیں لے گا ، کوئی نہ جانتا ہوگا