خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 379
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۷۹ خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۷۹ء پہنچتے ہیں دعاؤں کے، اس کے لئے اہلِ ربوہ ابھی سے دعائیں کریں۔خدا سے مدد مانگیں۔بڑی ذمہ داری ہے، بڑی ذمہ داری ہے سارا انحصار جو ہے وہ ان چیزوں کے اوپر ہے کہ جلد تر غلبہ اسلام ساری دُنیا میں ہو جائے۔دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جلسے کی برکات سے حصہ دے، آنے والوں کو خیر سے لائے ، خیر سے رہیں، خیر لے کے جائیں، پہلے سے زیادہ برکات کے وہ وارث ہوں ، اور ان کے سارے دکھ اور تکالیف دور ہو جائیں اور پریشانیاں جاتی رہیں اور ہمارے بچے جو ہیں وہ پورے روشن دماغوں کے ساتھ دنیا کے علمی میدانوں میں آگے ترقی کرنے والے اور جتنا خدا اب دے رہا ہے اور بڑا دے رہا ہے ذہن اس سے کہیں زیادہ ہمارے بچوں کو وہ ذہن دے۔بڑا لطف آتا ہے ہر طرف سے امتحان کے بعد سے یہ اطلاعیں ملتی ہیں کہ فلاں فرسٹ آ گیا اپنی کلاس میں، یو نیورسٹی کی کلاس میں فلاں اس طرح سے آگے آگیا۔باہر سے اطلاعیں آتی ہیں کہ سکالر شپ مل گئے۔سکالرشپ سے یاد آیا کہ سکالرشپ نہ ملنے کے بھی ہمارے متعلق بعض بعض منصوبے ہوتے ہیں پر تمہیں اس سے کیا تم تو خدا سے مانگو ، خدا کہیں نہ کہیں سے سامان پیدا کر دے گا۔تمہارا حق جو ہے وہ تمہیں دے گا کیونکہ اس نے یہی فیصلہ کیا ہے جو بہت اونچے ہیں ان کو جماعت سنبھال سکتی ہے اور سنبھال رہی ہے کچھ سکالر شپ دے دیتے ہیں بعض جماعتوں نے غیر ممالک نے۔بعض سکالرشپ کے متعلق ہمیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ کوئی ایسی فاؤنڈیشن بھی ہے غیر ممالک میں جو سکالرشپ دیتی ہے ابھی کل مجھے ایک نوجوان ایم۔ایس سی کا طالب علم مل کے گیا ہے۔اس نے کہا کہ میں جارہا ہوں ولایت پڑھنے کے لئے۔میں نے کہا تمہارے پیسے کا کیا انتظام ہے؟ اس نے ایک فاؤنڈیشن کا نام لیا اور کہا اس نے سکالرشپ دیا ہے۔میں نے پوچھا کہ کتنا دیا ہے؟ اس نے جو رقم بتائی وہ کم تھی۔میں نے کہا اس سے تمہارا گزارہ نہیں ہوگا۔فیسیں بھی نہیں پوری ہوں گی۔اس نے کہا نہیں، فیس بھی وہ دیں گے۔فیس کے علاوہ یہ دیا ہے۔میں نے کہا پھر بے فکری کے ساتھ جاؤ تمہیں مالی لحاظ سے کوئی تنگی نہیں۔تو سامان خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے تمہیں وفا کا تعلق اور ثبات قدم اور استقامت دکھانی چاہیے۔میں نے بڑا سوچا، ایک دن میں خدا تعالیٰ کی اتنی