خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 358
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۵۸ خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۷۹ء کے مظہر اتم ہیں۔اس صفت میں بھی اور جو کلام آپ لے کر آئے قرآن عظیم کی شکل میں وہ بھی الحق ہے۔اسی واسطے اس کا نام فرقان بھی رکھا گیا یعنی ایک ایسی تعلیم جو حق اور باطل میں فرق کرنے والی ہے، فرقان ہے۔قرآن عظیم چونکہ ہر پہلو سے حق و راستی پر مشتمل اور ہر قسم کے شبہات اور شکوک اور ظنون سے بالا اور کھلی ہوئی کتاب ہے جس میں کوئی دھوکا اور فریب نہیں اور اپنے وعدوں میں ہر پہلو سے سچی ہے۔قرآن کریم کے وعدے الْحَق اللہ تعالیٰ کی ذات سے نکلتے ہیں اور وہ اپنے وعدوں کا سچا ہے تو اللہ حق ہے اپنی ذات اور صفات کے لحاظ سے ایک عظیم ہستی ہے جس کی صفات تک ہمارے تصور ہمارے خیالات ہمارا ذہن ہماری فراست پہنچ نہیں سکتی۔بڑی عظمتوں والا عرش عظیم پر قائم ہے۔اس کی صفات کے مظہر بہت پیدا ہوئے لیکن مظہر ا تم بنی نوع انسان میں ایک ہی پیدا ہوا اور وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اب جہاں اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کے مظہر اتم ہیں۔اَلْحَق کی صفت کے بھی مظہر اتم ہیں۔آپ کی ساری زندگی آپ کا ہر قول اور ہر فعل اس کی شہادت دیتا ہے جس کی تفصیل میں اس وقت میں جانہیں سکتا۔جو تعلیم آپ لے کر آئے وہ کامل صداقت اور راستی اور شکوک وشبہات سے پاک اور مطہر اور شکوک وشبہات کو دور کرنے والی اور باطل کو مٹانے والی اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کرنے والی اور سچائی کو قائم کرنے والی اس لئے پہلے دن سے ہی اس تعلیم کی مخالفت ہوئی اور بڑی ہی مخالفت ہوئی اور ہوتی چلی گئی مخالفت اور ہو رہی ہے آج تک۔وقت آنے والا ہے جب یہ مخالفت قریباً مٹ جائے گی اور نوع انسانی اپنے محسن اعظم کو پہچانے گی اور فرقان کی عظمت کو شناخت کرے گی اور فرقان عظیم، یہ قرآن انہیں بتائے گا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے تمیز ایک پیدا کر دی جائے گی۔ہم انہی ایام کے لئے زندہ اور کوشاں ہیں۔پہلے دن سے جو مخالفت شروع ہوئی اور بڑی عظیم مخالفتیں ہوئیں قریش مکہ نے مخالفت کی۔مخالفت کو انتہا تک پہنچا دیا۔عرب نے کی ، کوئی کمی نہ چھوڑی، یہود اور نصاری نے کی اور سب سے آگے نکل گئے۔اس ساری مخالفت کے دو بنیادی نقطے ہمیں نظر آتے ہیں۔ایک جھوٹ اور ایک ظلم۔ان دو نقطوں کے گرد اسلام کی ساری مخالفت چل رہی ہے اور ان سے ایک معجون مرکب بھی بنتی ہے یعنی ظلما و زُورًا کی شکل میں جس کا قرآن