خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 351

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۵۱ خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۷۹ء انسان کو سڑکوں کی گندگی کے نتیجہ میں یا اس لئے کہ ان کو Maintain نہیں رکھا گیا، پہنچ سکتا ہے۔اس دکھ سے تم انہیں بچاؤ۔وقار عمل کرتے ہو تم۔آم کے موسم میں لوگ غلطی سے چھلکے اور گٹھلیاں باہر پھینک دیتے ہیں۔بعض دفعہ گٹھلیاں دکانوں کے سامنے پڑی ہوتی ہیں اس کا خیال رکھو کیونکہ ایک شخص بھی اگر کسی آم کی گٹھلی یا چھلکے پر پھسلتا ہے تو خدام الاحمد یہ اس مقام کی اس شہر کی اور یہاں ربوہ کی ، ذمہ دار ہے کہ وہ دکھ سے بچا سکتی تھی اپنے بھائی کو اور انہوں نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔پھر گرمی کی پریشانی ہے۔رمضان سے پہلے سارا دن خدام کام کرتے رہے ہیں بعض مقامات پراڈے وغیرہ پر۔پیاس کی شدت گرمی کی وجہ سے تکلیف کا احساس پیدا کرتی ہے اس دکھ کو ٹھنڈے پانی سے دور کیا جاتا ہے ان کو وہ پلاؤ۔قطع نظر اس کے کہ جس کی تم خدمت کر رہے ہو اور جس کا دکھ تم دور کر رہے ہو وہ کسی عقیدہ، کس مذہب، کس قوم اور کس رنگت کا ہے اپنے خدمت کے پروگرام کو اس کی ساری وسعتوں کے ساتھ پوری طرح چوکس اور بیدار رہ کر ادا کرو۔انصار کو میں جو دو باتیں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں کہ عاجزانہ دعاؤں سے اپنے رب کو راضی کرو اور تمہارا اصل کام تربیت کا ہے اس کی طرف پوری توجہ دو تا کہ آنے والی نسلیں آنے والی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نباہنے والی ہوں۔یہ تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔اپنے بچوں اور لواحقین (Dependents) سے اور پھر ماحول کی وسعتوں میں پھیل جاتی ہے۔گھر سے گاؤں ، گاؤں سے علاقہ ، علاقہ سے ملک ، ملک سے نکل کے جب بنی نوع انسان کو اپنے احاطہ میں لے لیتی ہے۔آپ پر پہلی ذمہ داری ہے دعائیں کرنا۔وہ دعائیں ہر ایک کے کام کے لحاظ سے اور ہر ایک کے ماحول کے لحاظ سے اور عمر کے لحاظ سے مختلف ہو جاتی ہیں ایک خادم کی دعا کا بڑا حصہ یہ ہے۔رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: ۱۱۵) ابھی وہ سیکھ رہا ہے۔علم دین بھی سیکھ رہا ہے، علم اخلاقیات بھی سیکھ رہا ہے، علم روحانیات بھی سیکھ رہا ہے، وہ خدا سے کہے کہ اے خدا! تو نے مجھ پر خدمت کی ذمہ داری ڈالی لیکن اس کے لئے جن علوم کی مجھے ضرورت ہے کہ مجھے اخلاق کے سارے پہلو معلوم ہوں روحانیت میرے اندر پیدا ہو، مجھے یہ معلوم ہو کہ میں اپنے جسموں کی اور دوسروں کے جسموں کی صحیح نشوونما اور تربیت کیسے