خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 352
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۵۲ خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۷۹ء کر سکتا ہوں ، کس رنگ میں ان کی خدمت بجالا سکتا ہوں۔یہ دعائیں ہیں خدام کی جو بڑے ہیں ان کی یہ دعا ہے کہ اے خدا ہماری ذریت کو اور ہمارے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو اپنا بندہ بنا۔ان کے دلوں میں اپنا پیار پیدا کر۔ہمارے لئے قرۃ العین ہوں وہ ہماری بدنامی کا باعث نہ بنیں۔لوگ یہ نہ کہیں کہ خود تو انہوں نے دینی میدان میں ظاہری رنگ میں ( باقی دلوں کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے ) بہت بلند مقام حاصل کئے لیکن ان کے بچے خراب ہو گئے۔آنے والی نسلیں آباء کے مقام سے گر گئیں۔یہ دعائیں ہیں ان کی اور تربیت کی ذمہ داری دعاؤں کے پہلو بہ پہلو آگے بڑھتی ہے۔جس طرح خدام کے لئے خدمت کی ذمہ داری دعاؤں کے ساتھ۔دعا اور خدمت“ پہلو بہ پہلو آگے بڑھتے ہیں۔انصار کے لئے تربیت کی ذمہ داری دعاؤں کے ساتھ دعا اور تربیت پہلو بہ پہلو آگے بڑھتے ہیں۔اور جماعت کو جو دو باتیں میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں۔ایک تو یہ کہ عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اپنے رب کریم کی رضا اور اس کی نعماء کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔دعاؤں کے ساتھ اس ذمہ داری کو نباہنے کے قابل بننے کی کوشش کرو کہ ساری دنیا میں اسلام کو پھیلانے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور نور کو متعارف کروانے کی ذمہ داری تم پر ہے اور دعاؤں کے ساتھ خدا سے یہ نعمت حاصل کرو کہ تم واقع میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو سکتے ہو خدا کی نگاہ میں یعنی اس طور سے نقش قدم پر چلنے والے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کا صحیح معنی میں اور حقیقی رنگ میں دوسروں کے لئے اُسوہ بن جاؤا اور تمہاری زندگیوں کو دیکھ کر اور تمہارے اعمال کو دیکھ کر تمہارے اُسوہ کے حسن کے گرویدہ ہو کر وہ جو ابھی تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے سایہ کے نیچے نہیں آئے وہ اس طرف کھچے آئیں۔جذب ہو تمہارے اندر۔اپنے لئے نہیں چونکہ تمہارا مقام تو نیستی کا مقام ہے ہر دو پہلو سے (۱) اس لئے بھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ا کے مقابلے میں تمہارا مقام نیستی کا ہے اور (۲) اللہ تعالیٰ کے مقابل تمہارا مقام نیستی ہے۔وہ عظیم ہستی جس کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کے اور فنافی اللہ ہو کر نیستی کا مقام حاصل کیا۔جس مقام پر دنیا فخر کرتی آئی ہے اور فخر کرتی چلی جائے گی۔