خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 338
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۳۸ خطبہ جمعہ ۱۷ راگست ۱۹۷۹ء تعلق ہے۔رمضان میں زیادہ دعاؤں کی طرف توجہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کچھ اور برکتیں شامل ہو گئیں۔پھر ہر جمعہ، جمعہ کی برکتیں لے کے آتا ہے۔رمضان کا ہر جمعہ رمضان کی برکتیں اور جمعے کی برکتیں ہر دو برکتوں والا جمعہ ہوتا ہے۔آخری عشرہ میں جب خدا کا بندہ خدا تعالیٰ کے دست قدرت کا نشان مانگتا اور لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی خواہش رکھتا ہے، اس کے اثرات اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتا ہے اس میں بھی برکتیں ہیں۔لیکن یہ تصور تو کسی احمدی کے دماغ میں نہیں۔(اور اگر کسی نئے آنے والے کے دماغ میں ہو تو وہ نکال دے) کہ کوئی ایسا دن بھی ہے کہ انسان دیدہ و دانستہ جان بوجھ کر سارا سال نمازیں چھوڑے، مال حرام کھائے ، لوگوں کو دکھ دے، لوٹ مارکرے، حقوق تلف کرے، حقوق غصب کرے اور اس امید پر کرے کہ آخری جمعہ رمضان کا آئے گا اس دن ہر گناہ کی میں معافی مانگوں گا اور مجھے معافی مل جائے گی۔جو شخص دیدہ دانستہ اس طرح کرتا ہے اس کو تو ترساں رہنا چاہیے اور اس بات سے خوش نہ ہونا چاہیے کہ اللہ مالک ہے چاہے تو معاف کر دے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو تعلیم دی ہے وہ یہ ہے کہ میرے پیار کو حاصل کرنا ہے تو میرے بتائے ہوئے طریق اور میرے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر چلو، میری اطاعت کرو، میرے رسول کی اتباع کرو، اس کے اُسوہ کو اپناؤ ، اس کے نقش قدم پر چلو، اس سے محبت رکھو، اس اتباع اور محبت کے نتیجہ میں مجھ سے تم محبت کا اظہار کرو گے اور میں تم سے محبت کروں گا۔قرآن کریم نے متعدد جگہ مختلف طریق پر ہمیں خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ سے بچنے کی تعلیم دی اور اس کی راہیں جو بیان کی ہیں ان آیات میں سے میں نے بعض کا انتخاب کیا ہے۔جو میں نے ابھی پڑھی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ اس آیت میں اول ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ کافروں کے لئے خدا تعالیٰ کے قہر کی آگ بھڑ کائی گئی ہے ، وہ کافر اور منکر جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتے ، وہ مخالف ہیں خدا کے دین کے، جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی اتباع نہیں کرتے۔آپ سے پیار کا تعلق نہیں رکھتے ، ان کافروں کے لئے ایک آگ تیار کی گئی ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس آگ سے اپنا بچاؤ کرو ( وَاتَّقُوا) یہ بچاؤ تقویٰ کے ذریعہ سے کرو اور دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کے قہر کی آگ سے بچنے کے سامان خدا کی پناہ میں آکر پیدا