خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 339 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 339

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۳۹ خطبہ جمعہ ۱۷ راگست ۱۹۷۹ء 666 کرو۔تیسرے یہ کہ اس کی راہ کیا ہے؟ وَ اَطِیعُوا اللہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اس کے سب احکام کو ہمہ وقت بجالانے کے لئے ہر دم تیار رہو یعنی یہ نہیں کہ جس طرح جاہلیت کے زمانہ میں نسی کے طریق پر حرمت والے مہینوں کو آگے پیچھے کر دیتے تھے تو ہماری زندگی کا ہر لمحہ خدا تعالیٰ کے لئے وقف ہونا چاہیے۔اس معنی میں کہ اس کی جو بے شمار د نیوی نعمتیں ہمارے اوپر نازل ہوئی ہیں ہم ان کو جائز طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کریں اور جائز طریقے پر ان کو خرچ کرنے والے ہوں تو اس آگ سے بچنے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی اطاعت کرو، اس کے سب احکام ہر دم بجالانے کے لئے تیار رہو اور مجاہدہ اپنے نفس کے ساتھ کرو۔چوتھے یہ کہ ( آطِیعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ ) کہ اللہ کے رسول کی اطاعت کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ان أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (یونس : ١٢) میں اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو میرے پر خدا تعالیٰ نے نازل کی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اس معنی میں کہ تم بھی اس وحی کی اتباع کر و جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔دوسرے قرآن کریم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے انسانوں کے لئے ، رہتی دنیا تک کے لئے ، اُسوہ بنا کر ہمارے سامنے رکھا یعنی ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنا اور آپ کے اُسوہ کے مطابق زندگی گزار نا خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار کو حاصل کرنا ہے۔پانچویں بات یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رنگ بنے کی کوشش کرو اور فرمایا کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم سے رحم کا سلوک کرے گا اور اس کی محبت اور اس کے پیار کے تم وارث ہو گے۔چھٹے یہ کہ اللہ تعالیٰ جو رحم اور پیار کا سلوک کرے گا اس کی دوصورتیں یا دوشکلیں ان آیات میں بتائی گئی ہیں۔آگے یہ ذکر ہے وَسَارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے رحم کی دو شکلیں بیان ہوئی ہیں۔ایک اس کی مغفرت ، جب وہ اپنی مغفرت سے ڈھانپ لے تو انسان اس آگ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔جس سے یہاں ڈرایا گیا، جس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے مغفرت رب کی طرف سے نازل ہونے والی بخشش ہے جس کے بغیر انسانی اعمال بے ثمر ہیں اور یہ