خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 324
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۲۴ خطبه جمعه ۱۰ راگست ۱۹۷۹ء وعدے ہمارے حق میں پورے ہوں۔پھر سوال پیدا ہوتا تھا کہ انسان بشری کمزوریاں رکھتا ہے۔ان شرائط ، ان ذمہ داریوں کو کماحقہ ادا نہیں کر سکتا اس لئے انسانی کوشش کے علاوہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کی بھی ضرورت ہے۔تو اسی آیت سے ہم یہ استدلال کرتے ہیں جو بات آگے جا کر دوسری آیات میں کھل کے سامنے بھی آجاتی ہے کہ ہماری کوششوں میں جو ہم تیری رضا کے حصول کے لئے کریں۔اگر خامیاں رہ جائیں ہم سے کوئی غفلتیں اور کوتاہیاں ہو جا ئیں ، کوئی گناہ سرزد ہو جا ئیں تو اے خدا مغفرت کی چادر کے نیچے انہیں ڈھانپ دے۔جب تک خدا تعالیٰ کی مغفرت انسان کے گنا ہوں اور اس کی کوتاہیوں اور غلطیوں کو ڈھانپ نہ لے اور جب تک انسان اپنی سی یہ کوشش نہ کر لے کہ جو شرائط اور ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں ان کو وہ زبان، دل اور عمل سے پورا کرنے والا ہو، اس وقت تک خدا تعالیٰ یہ وعدے پورے نہیں کرے گا۔پہلی امتوں میں بھی یہ اعلان کیا گیا ہے۔تو اس چیز کی وضاحت میں یہ میں نے ساری آیات تو نہیں لیں ایک خطبہ جمعہ میں ان کے متعلق نہیں بات کر سکتا۔جو میں نے آیات لی ہیں اس سلسلہ میں بھی مختصر بات کروں گا چند مثالیں لی ہیں کہ مَا وَعَد تنا یہ کون سے وعدے ہیں جو قرآن کریم نے وعدے“ کے لفظ سے انسان سے کئے اور پھر انہی میں آتا ہے شرائط کیا رکھی گئی ہیں اور اور وعدے کی تفصیل کیا ہے؟ یہ جو آیتیں میں نے پڑھی ہیں ان کا اکٹھا ہی ترجمہ کر دیتا ہوں ورنہ دیر ہو جائے گی۔آیات آپ نے سن لی ہیں۔اب ترجمہ سن لیں۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا الخ یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کے مناسب حال عمل کئے ان کو نعمت والے باغات ملیں گے جن میں وہ رہتے چلے جائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا پختہ وعدہ ہے ( وَعْدَ اللهِ حَقًّا ) اور وہ غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔جو چاہتا ہے کر سکتا ہے لیکن کرسکتا بے حکمت بات نہیں کیا کرتا۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدہ پر قائم ہو گئے ان پر فرشتے اتریں گے یہ کہتے ہوئے کہ ڈرو نہیں اور کسی پچھلی غلطی کا