خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 317
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۱۷ خطبه جمعه ۳/اگست ۱۹۷۹ء یہ تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔تو فَاجْعَلْ أَفَبِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهُو إِلَيْهِمُ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا! ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم اس قابل ہوں کہ تیری خاطر اور تیرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ایک جہاں کے دل جیتیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کر رکھ دیں۔پھر جو ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔اُمت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔وہ صرف ایک نسل سے تو تعلق نہیں رکھتی نسلاً بعد نسل یہ ذمہ داری اٹھانی ہے قیامت تک یہ ذمہ داری اٹھانی ہے اس واسطے آنے والی نسلوں کے لئے دعا کرناضروری ہے۔قرآن کریم کہتا ہے :۔رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَلُ دُعَاء (ابراهیم : ۴۱) کہ اے خدا مجھے بھی عمدگی سے نماز ادا کرنے کی توفیق دے اور میری آنے والی نسل کو بھی۔میری ذریت کو بھی کہ ہم عمدگی سے نماز ادا کریں یعنی اس طور پر نماز ادا کرنے والے ہوں کہ تو ہم سے راضی ہو جائے اور ہماری ذریت اس طور پر نماز ادا کرنے والی ہو کہ تو ان سے راضی ہو جائے۔مگر اپنی طاقت سے ہم یہ کر نہیں سکتے ہماری اس دعا کو قبول کر ربَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَاء اور اس دعا کو قبول کر کہ ہم نماز ادا کرنے والے ہوں عمدگی کے ساتھ اور ہماری ذریت اور ہماری ہر دعا کو قبول کر جو تیرے نور کو پھیلانے والی اور دنیا سے اندھیروں کو دور کرنے والی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن واحسان کو دنیا کے سامنے اس رنگ میں پیش کرنے والی ہو کہ وہ مؤثر بن جائے اس دنیا کے لئے جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی شان کو ابھی پہچانتی نہیں۔باہمی تعلقات ہیں۔بھائی چارہ بنا دیا نا اُمت مسلمہ کو ایک خاندان بنادیا۔اور سورہ حشر آیت ا ا میں ہمیں یہ دعا سکھائی کہ ہمیں اور ہم سے پہلے آنے والے بھائیوں کو بخش دے۔جو پہلے بزرگ گزرے ہیں (صرف اپنے زمانہ میں بسنے والے نہیں ) بلکہ اس تعلق کو اگلے اور پچھلوں کے ساتھ باندھا گیا ہے دراصل اور ہمارے دلوں میں مومنوں کا کینہ کبھی پیدا نہ ہو۔بڑی عجیب دعا ہے سارے فتنوں کو دور کرنے والی۔بعض دفعہ انسان حق لے کر بعض دفعہ حق چھوڑ کر فتنہ دور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا (الممتحنة: ۶) اے ہمارے ربّ