خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 316
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۱۶ خطبه جمعه ۳ /اگست ۱۹۷۹ء ایک ذمہ داری مسلمان کی یہ تھی کہ وہ اسلام کو دنیا میں پھیلائے ، اس کی تبلیغ کرے نمونہ بنے دوسروں کے لئے کیونکہ بغیر نمونے کے دنیا توجہ نہیں کرتی۔تو یہ بھی بہت وسیع ذمہ داری ہے اور ہر مسلمان کا تعلق اس ذمہ داری کے نتیجہ میں ہر غیر مسلم کے ساتھ ہے۔جہاں تک ممکن ہو۔یہ نہیں کہ اس کا یہ فرض ہے کہ وہ مشرق و مغرب و شمال و جنوب کے ہر غیر مسلم کے پاس جا کے تبلیغ کرے لیکن مجموعی طور پر امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کے حسن کو اور اللہ تعالیٰ کے نور کو پھیلانے والے ہوں اور اس کے لئے اُسوہ چاہیے اور اس کے لئے جذب چاہیے ایسا نمونہ جو دوسروں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہو۔یہ دعا سکھا دی۔یہ دعائیں قرآن کریم میں یا تو اس رنگ میں ہیں کہ وہ دعا سکھائی گئی اس رنگ میں ہیں کہ پہلے انبیاء کو وہ دعا سکھائی گئی اور قرآن کریم نے اس کا ذکر کیا اس غرض سے کہ ہم بھی اس سے فائدہ اٹھانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ ابراہیم میں فرماتا ہے۔فَاجْعَلْ أَفْبِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ (ابراهيم :۳۸) لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے اس دعا کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ دل جیتنے کی توفیق ہمیشہ امت مسلمہ کے ہر گروہ کو عطا کرتا چلا جائے ، محبت کے ساتھ ، پیار کے ساتھ خدمت کے جذبہ کے ساتھ نیک نمونہ بن کر ایک ایسا اُسوہ نظر آئے ، ایک فرقان، ایک تمیز پیدا کرنے والی بات ایک احمدی مسلمان میں غیر مسلم کو نظر آئے کہ وہ مجبور ہو جائے اس طرف مائل ہونے پر اور اس کی طرف جھک کے اس سے پوچھنے پر کہ میرے اور تیرے میں جو فرق ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ بس بات شروع ہوگئی تبلیغ کی وہ مسلمان اسے کہے گا۔میں تو ایک عاجز انسان، میں تو ایک نالائق انسان ہوں۔مگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والا انسان۔میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والا انسان ، میں قرآن کریم کی اس تعلیم پر عمل کرنے والا انسان ہوں کہ دنیا میں جو دکھی ہیں ان کے دکھوں کو دور کروں اور سکھ کے سامان جہاں تک میری طاقت میں ہے میں پیدا کروں۔میں نے خدا کو پایا اور اس کے نور کو دیکھا اس کی آواز کو سنا۔اس کی طاقت اور قدرت کے کرشمے میں نے اپنی زندگیوں میں مشاہدہ کئے۔ان ساری چیزوں نے میری زندگی میں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔تم ایسا کرو گے تمہاری زندگی میں بھی