خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 290
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۹۰ خطبہ جمعہ ۲۰ / جولائی ۱۹۷۹ء نہیں یہ نتیجہ تو نہیں نکلتا۔خیر وہ برداشت کر گیا اسے۔لیکن شرک کے خلاف یہی تعلیم یہاں دی ہے۔مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم ، تجھے کوئی علم نہیں ہے۔کسی انسان کو یہ علم نہیں ، یہ دلیل میں نے کہا ہے ابتدائی اور بڑی حسین دلیل ہے لیکن یہی نہیں ہزاروں اور دلائل ہیں جو اس کے ساتھ آکے ملتے ہیں۔یہاں سے قرآن کریم نے شرک کے خلاف دلائل کی ابتدا کی کہ چونکہ تمہیں علم نہیں ہے کہ خدا کا کوئی شریک ہے اس لئے تم خدا کا کوئی شریک نہ مانو۔لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں شرک کے خلاف بہت سے دلائل دیئے ہیں۔پھر فرمایا چونکہ تمہیں اس بات کی معرفت حاصل ہوگئی اسلامی تعلیم میں کہ خدا کا کوئی شریک نہیں۔مثبت ، قوی دلائل وشواہد کے (ساتھ ) اس واسطے خدا کا کوئی شریک نہیں مثلاً ایک جگہ کہا کہ دیکھو خدائے واحد و یگانہ میں یہ صفات پائی جاتی ہیں اور قرآن کریم کہتا ہے کہ جو اس قرآن پر عمل کرے گا اس کو یہ بشارتیں میں دیتا ہوں۔اس کو یہ بشارت دیتا ہوں۔بیسیوں سینکڑوں بشارتیں قرآن کریم نے اپنے ماننے والوں کو دی ہیں۔ان بت پرستوں کو پوچھو کہ جو تعلیم ان شرکاء کی طرف منسوب کرتے ہو وہ کونسی تمہیں بشارتیں دیتی ہیں اور کبھی تمہاری زندگی میں پوری بھی ہوئیں؟ لیکن جو خدا نے تم سے وعدے کئے وہ صادق الوعد تمہاری زندگی میں اپنے وعدوں کو پورا کر رہا ہے اور اپنے ہونے کا ثبوت اور اپنے واحد ہونے کا ثبوت تمہیں مہیا کر رہا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل دیئے۔تو مَا لَيْسَ لَكَ یہ علم میں شرک کے خلاف ( شرک کے رد میں کہنا چاہیے ) شرک کے رد میں ابتدائی بنیادی دلیل، دین۔۔۔۔جس کا تمہیں علم ہی نہیں اس تعلیم کی طرف تم مجھے لے کر کیوں جانا چاہتے ہو۔سورۃ لقمان کی آیت میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں۔ایک والدین سے احسان کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہ کہ کر کہ میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرو، خدا کہتا ہے میرے شکر گزار بندے بنو اور اگر میرے شکر گزار بندے بنا ہے تو اپنے والدین کے بھی شکر گزار بندے بنو۔اس واسطے کہ جو تمہاری زندگی میں انہوں نے تم پر احسان کئے وہ میرے بعض ان احسانوں سے بڑے ملتے جلتے ہیں جو میں نے تم پر کئے۔اگر تم اپنے والدین کا شکر یہ نہیں ادا کرو گے تو پھر میرے شکر گزار بندے بھی نہیں بن سکو گے ، بھٹک جاؤ گے