خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 291 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 291

خطبات ناصر جلد ہشتم صراط مستقیم سے۔۲۹۱ خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۷۹ء دوسرے یہاں یہ کہا گیا کہ اگر والدین شرک کا حکم دیں تو ان کی بات نہیں ماننی۔جیسا کہ میں نے بتایا۔والدین کے شکر کو خدا کا شکر گزار بننے کے ساتھ باندھ دیا ہے۔تو یہاں یہ دونوں طرف چلتی ہے۔یعنی جب خدا تعالیٰ کا احسان تمہارے سامنے آئے گا تو تم ماں باپ کا احسان ماننے لگ جاؤ گے جب ماں باپ کا شکریہ ادا کرو گے۔احسان تسلیم کرو گے تو خدا تعالیٰ کا احسان بھی تبھی کر سکو گے۔تیسری بات ( اور وہ بنیادی بات ہے ) وہ ہے سورۃ لقمان میں میں نے بعض باتیں گن کے بتائیں اور گنے کا میرے ذہن میں ایک یہ بھی فائدہ تھا کہ بچوں کا اپنے ماں باپ کے ساتھ جو تعلق ہے اس سلسلے میں جو بچوں کی ذمہ داریاں ہیں وہ صرف اس دائرے تک محدود نہیں جن کو کھول کر قرآن کریم کی آیات نے بیان کیا اس واسطے کوئی ایسی آیت کسی آیت کا ایسا حصہ ہونا چاہیے کہ جو بنیادی طور پر ایک ایسی بنیادی تعلیم دے جو ہر شعبہ زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہو۔اور وہ یہ ہے۔وَصَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا “۔پس چوتھی بات جو سورۃ لقمان میں یہ بیان کی گئی کہ دنیوی معاملات جتنے بھی ہیں سب کے سب میں ، ان کے ساتھ نیک تعلقات قائم رکھو۔یہ ہمارا حکم ہے۔تو دنیوی لحاظ سے جتنی ذمہ داریاں بھی انسان کی انسان پر ہیں ماں باپ اور بچے کا تعلق اس لحاظ سے بھی ہے وہ تمہیں ادا کرنی چاہئیں۔وَصَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا سارے کے سارے دنیوی معاملات میں ان کے ساتھ نیک تعلقات قائم رکھنے کا حکم دے کر اور بعض باتوں کو کھول کر بیان کر کے یہ سارا مسئلہ واضح طور پر ہمارے ذہنوں میں ڈال دیا اسلامی تعلیم نے۔اور پھر یہاں ( الفاظ میں نہیں لیکن ) مضمون کے تسلسل میں جو بات کہی گئی ہے اس سے واضح ہے کہ انسان سوچے گا کہ اتنا وسیع حکم دے دیا کہ سارے دنیوی معاملات میں اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک تعلقات کو قائم رکھو۔ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا تمہارے ساتھ۔تو سارے دنیوی معاملات جن میں ماں باپ کے ساتھ نیک تعلقات قائم رکھے جاسکتے ہیں۔ان کا ہمیں پتا