خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 287 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 287

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۸۷ خطبہ جمعہ ۲۰/ جولائی ۱۹۷۹ء شامل ہیں جو ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے ہماری پیدائش سے بھی قبل پیدا کر دیں جیسا کہ کہا گیا تھا۔سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴) تو جو نعماء اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے پیدا کی ہیں ان کی بڑی بھاری اکثریت شاید اگر آپ سوچیں تو ننانوے فی صد ایسی نعمتیں ہیں ایسے فضل اور برکتیں ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ جن کا تعلق انسان کے کسی عمل سے نہیں۔مثلاً سورج ہماری خدمت کر رہا ہے۔مثلاً چاند ہماری خدمت کر رہا ہے۔مثلاً ہوا میں ہماری خدمت کر رہی ہیں مثلاً پانی ہماری خدمت کر رہا ہے۔مثلاً زمین اور اس کے خواص ہماری خدمت پر لگے ہوئے ہیں۔آپ میں سے کون کہہ سکتا ہے کہ آپ کی پیدائش کے بعد آپ نے جب نیکیاں کیں تو اللہ تعالیٰ نے سورج کو اور چاند کو اور زمین کو اور ہوا کو اور پانی کو پیدا کر دیا؟ پتا نہیں کتنا زمانہ قبل ہماری پیدائش سے خدا تعالیٰ نے ان نعمتوں کے سامان ہمارے لئے پیدا کئے تھے اور ہماری طرف سے کسی عمل کے ہونے کا اور کسی سعی کے ہونے کا خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کسی جہاد کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔دوسرے ہے رحیمیت۔رحیمیت کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص نیک نیت کے ساتھ اور خلوص کے ساتھ اور ایثار کے جذبہ کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر اس کے حضور کچھ پیش کرتا ہے اور خدا اسے قبول کر لیتا ہے تو وہ بھی اپنے فضل سے ہی دیتا ہے مگر اس فضل کے نتیجہ میں جو اس موقع پر ہوتا ہے یہ رحیمیت کا جلوہ ہے اور اس کے معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا رحیم ہے۔انسان کام کرتا ہے۔بڑی نیک نیتی سے خلوص سے ایثار سے کام کر رہا ہوتا ہے لیکن بیچ میں خامیاں رہ جاتی ہیں۔وہ مغفرت سے ان خامیوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔انسان عمل کرتا ہے بعض جگہ اس کو پتا ہی نہیں لگتا کہ میں خدا تعالیٰ کے حضور جو پیش کر رہا ہوں بہتر طریق پر کس طرح پیش کروں تو خدا تعالیٰ اس کی ہدایت کے سامان پیدا کرتا ہے،خوداس کی راہنمائی کرتا ہے۔ہزاروں لاکھوں اُمت محمدیہ میں ایسے فدائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہوئے جنہوں نے خدا تعالیٰ سے براه راست وحی اور الہام کے ذریعے اس کی ہدایت پائی اپنے اعمال کو مہذب کرنے کے لئے پالش (Polish) کرنے کے لئے اور پھر خدا تعالیٰ نے دوسر افضل یہ کیا کہ ان کے اعمال کو قبول