خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 288 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 288

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۸۸ خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۷۹ء کر لیا اور ان کی اچھی جزا ان کو دی اور اس زندگی میں بھی اور وعدہ کیا اُخروی زندگی میں بے انتہا انعامات کا۔تو رحمت جو ہے یہ ان دو مختلف معنوں میں قرآن کریم کی اصطلاح اور عربی لغت کے لحاظ سے ظاہر ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ انسان کو کہ میری صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرو۔تو یہاں اس آیت میں یہ جو کہا گیا کہ رحمت کے جذبہ سے عاجزانہ رویہ اختیار کرو اس میں بھی دو حکم آجائیں گے۔ایک یہ کہ بہت سارے بچوں کو اپنی زندگی میں یہ خیال آیا ہوگا کہ ہمارے باپ نے ہم سے حسن سلوک نہیں کیا۔یعنی اس کا کوئی عمل ایسا نہیں جو ہمیں احسان پر اکساتا ہو۔قرآن کریم کہتا ہے پھر بھی تم نے احسان کرنا ہے۔رحمت یعنی رحمانیت کا جلوہ تمہارے حسنِ سلوک ، والدین سے حسنِ سلوک میں نظر آنا چاہیے اور جو انہوں نے تمہارے ساتھ نیکیاں کیں وہ بھی یہ تقاضا کرتی ہیں کہ تم ان کے ساتھ شکر گزار ہو کر معاملہ کرو۔حسنِ سلوک کرو اور احسان کا معاملہ کرو۔مثلاً بچہ ہے ماں کی گود میں ، باپ کی شفقت کے نیچے ، چند مہینوں کا بچہ، چند سال کا بچہ وہ کون سا احسان کر رہا ہے اپنے ماں باپ پر اس عمر میں ، احسان وصول ہی کرنے کی عمر ہے نا۔شفقت پانے کی عمر ہے۔ماں کے سینے سے بہت کچھ حاصل کرنے کی عمر ہے۔پرورش میں مدد دینے والے ہیں دونوں۔اس نے تو ابھی تک کچھ نہیں کیا اور بہت ہیں ایسے ماں باپ جو اس لحاظ سے بچوں سے کبھی بھی کچھ نہیں لیتے جو یہ کہتے ہوں کہ باپ نے کچھ دیا نہیں پھر بھی ہم دیتے ہیں اور یا باپ نے جو دینا تھا وہ نہیں دیا پھر بھی ہم اس سے حسن سلوک کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کہتا ہے ہر دولحاظ سے تمہیں میری صفت رحمانیت اور صفت رحیمیت کا مظہر بننا پڑے گا جہاں تک تمہارے باپ کا تعلق ہے۔ان کے لئے دعا کرو کہ اے خدا ان سے رحمت کا سلوک کر اور جو مثال آگے دی ہے اس سے یہ دعا یہ بنتی ہے کہ اے خدا! میرے ماں باپ نے تیرے سے معاملہ کرتے ہوئے ہزار کو تا ہیاں کی ہوں تو انہیں معاف کر دے اور مغفرت کی چادر کے نیچے چھپا لے کیونکہ جب میں بچہ تھا اور میں کچھ نہیں کر سکتا تھا ان کے لئے ، اس وقت وہ میرے ساتھ بڑا پیار کیا کرتے تھے تو رحمانیت کے جلوے کی یہ مثال دے کر اس دعا میں ایک حُسن پیدا کر دیا گیا ہے۔