خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 284
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۸۴ خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۷۹ء اور دوسرا جو چشمہ پھوٹا وہ ہے حقیقی کامل مساوات کا قیام۔انسان انسان میں کوئی فرق نہیں رہنے دیا۔Islam is a great Leveller ایک مقام پر سب کو لا کھڑا کیا۔سب کو برابر کر دیا اور میں نے بتایا کہ اشرف المخلوقات کہا گیا انسان کو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا ہی عظیم اعلان فرمایا : - إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم ( حم السجدة : - ) کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں فرق نہیں اور میں نے بتایا تھا کہ خود گھٹیا مقام پر گر کے یہ اعلان نہیں کیا بلکہ نوع انسانی کو اٹھا کر ایک ارفع مقام پر اپنے پاس کھڑا کیا اور کہا۔بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔دوسری چیز میں نے یہ بتائی تھی کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کی مخلوق کا سوال ہے انسان کے علاوہ کائنات کی ہر شے کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا اور کسی چیز کو بھی کسی خاص انسان یا انسانوں کے کسی خاص گروہ کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔ہر چیز کو تمہاری خدمت پر لگایا گیا یہ بھی اعلان کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم دین والوں کو بھی دیتے ہیں اور دنیا والوں کی بھی مدد کرتے ہیں۔وَمَا كَانَ عَطَاء رَبَّكَ مَحْظُورًا ( بنی اسرآءيل: ۲۱) تیرے رب کی عطا کسی گروہ سے بھی رو کی نہیں جاتی۔آج کا مضمون میں نے لیا ہے والدین کے حقوق کی ادائیگی کے لحاظ سے والد والد میں جو ہزاروں فرق انسانی آنکھ دیکھتی ہے اس سب تفریق کو مٹا کر ہر والد کو ( بیٹے کی نسبت کے ساتھ ہوگا نا والد ) ایک ہی مقام پر لا کھڑا کیا۔یہ اتنا عام مضمون نہیں جتنا شاید مشرق میں بسنے والے سمجھتے ہوں۔گومشرق میں رہنے والے بھی مغرب اور مغربی تہذیب سے متاثر ہو رہے ہیں۔مغرب میں تو یہ حال ہے کہ مبالغہ نہیں ہوگا اگر میں کہوں کہ لاکھوں بچے ایسے ہیں جو اپنے ماں باپ کو یا باپ کو یا ماں کو ، اگر ان میں سے کوئی اکیلا ہی رہ گیا ہے اپنے پاس رکھنے کے لئے بھی تیار ہوں۔جولا وارثوں کے لئے انہوں نے بعض ادارے کھولے ہوئے ہیں یا بعض گھر پیسے لے کے رکھ لیتے ہیں وہاں ان کو وہ داخل کروا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی سب ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو گئے ہیں۔قرآن کریم نے ماں باپ کے جو حقوق قائم کئے ہیں وہ تین بنیادوں پر قائم