خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 281
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۸۱ خطبہ جمعہ ۱۳ / جولائی ۱۹۷۹ء تو یہ بنیادی بات آج میں مختصراً کہنا چاہتا ہوں۔مختصر ہی خطبہ دینے کی نیت تھی اور انشاء اللہ۔اللہ توفیق دے تو میں پچاس، سو پتا نہیں کس قدر باتیں قرآن کریم کی آیات سے لے کے بتاؤں گا کہ کسی جگہ بھی مسلم اور غیر مسلم میں، موحد اور غیر موحد میں ، امیر اور غریب میں، کالے اور گورے میں اسلام نے فرق نہیں کیا۔سب انسانوں کو شرف واحترام کے ایک بلند ترین مقام پر لا کے کھڑا کر دیا۔یہ بھی بتا دوں کہ جس وقت آپ نے یہ فرمایا کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گری ہوئی اور حقیر مخلوق انسان کے پاس آسمانوں سے اتر کے اور خود کو ان کے مقام پر کھڑا کر کے یہ اعلان نہیں کیا کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَر مثْلُكُم میں تمہارے جیسا انسان ہوں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے، نا قابل تردید حقیقت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کو گرے ہوئے مقام سے اٹھا کے آسمانی رفعتوں تک لے گئے اور کہا دیکھو إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ تمہاری عزت اور شرف کو قائم کرنے کے بعد میں کہتا ہوں مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے۔میری بھی عزت تمہاری بھی عزت کسی انسان کو تحقیر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جائے گا۔گنہگار کو بھی نہیں دیکھا جائے گا۔تفصیل میں جائیں گے تو بعض مثالیں ہمیں ایسی نظر آئیں گی کہ دنیا کی نگاہ میں انتہائی گناہگار انسان ہے اور اس کے خلاف ایک شخص مخلص ، مومن کے منہ سے حقارت کا کلمہ نکلا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نا پسند کیا اور سخت غصہ میں آئے اور اس کو جھڑ کا کہ اس قسم کی باتیں کیوں نکل رہی ہیں تمہارے منہ سے۔اسلام بڑا پیارا مذہب ہے اور آج کے انسان کو پہلی نسلوں سے زیادہ اس کی ضرورت ہے کیونکہ پہلی نسلوں نے اپنے لئے تباہی کے اس قسم کے سامان اکٹھے نہیں کئے تھے جس قسم کی تباہی کے سامان اس دنیا نے آج کے انسانوں نے اکٹھے کر لئے ہیں۔پس دعا کریں کہ آپ کو بھی خدا تعالیٰ قرآن کریم کی تعلیم کے سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور جو اس کو ابھی نہیں مان رہے جو اس کی عظمت کو پہچان نہیں رہے جو اس کے نور سے واقف نہیں اور