خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 280
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۸۰ خطبہ جمعہ ۱۳ / جولائی ۱۹۷۹ء قابلیت عطا کی ہو تھیوریٹیکل فزکس کے میدان میں ترقی کرنے کی تو جو اس ترقی اور کامل نشود نما کے لئے مادی اور غیر مادی سامانوں کی ضرورت ہے وہ اسے نہ مہیا کئے جائیں کیونکہ وہ خدا کو نہیں مانتا۔ایسا کوئی اعلان نہیں۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔نُمِد هَؤُلَاءِ وَهُؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ( بني اسراءيل : ۲۱) ہم سبھی کو مدد دیتے ہیں دین والوں کو بھی دنیا والوں کو بھی۔وَ مَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا اور تیرے رب کی عطا کسی خاص گروہ سے رو کی نہیں جاتی نہ اللہ تعالیٰ روکتا ہے اور نہ اس کی تعلیم روکتی ہے۔تو یہ جو مساوات ہے یہ محض نعرہ نہیں جسے اسلام نے بلند کیا ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ایک مادی حقیقت بھی۔یہ ایک حقیقت ہے ایک ذہنی حقیقت بھی اور یہ ایک حقیقت ہے۔ایک اخلاقی اور روحانی حقیقت بھی کہ کسی انسان اور دوسرے انسان میں فرق نہیں کیا جائے گا جو حقوق خدا تعالیٰ نے کسی شخص کے قائم کئے ہیں۔مثلاً ابھی جو میں نے مثال دی۔خدا تعالیٰ نے ہر شخص کا یہ حق قائم کیا ہے کہ اس کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے قوت اور استعداد عطا ہوئی ہے اس کی کامل نشوونما ہو اور اپنے کمال پر اسے قائم رکھنے کے لئے ہر ضروری چیز مہیا کی جائے۔اس میں مسلمان اور غیر مسلمان کا کوئی فرق نہیں۔نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل اور اُسوہ میں اور إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحی الی (یونس : ۱۶) آپ نے کہا کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی ہوئی اور نہ اس وحی کی جس کی آپ پیروی کرتے اور جس کی پیروی کر کے آپ بنی نوع انسان کے لئے نمونہ بنے۔تو اسلام ایک عظیم مذہب ہے اس لحاظ سے بھی کہ وہ انسان، انسان کو پیار سے زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔اور اس لحاظ سے بھی کہ اس نے سارے انسانوں کو خدا تعالیٰ کی رحمت کے سایہ تلے لا کے کھڑا کر دیا اور انسان انسان میں فرق نہیں کیا۔سب مساوی ہیں اس معنی میں کہ جو حقوق اللہ تعالیٰ نے ان کے قائم کئے ہیں وہ ان کو ملنے چاہئیں قطع نظر اس کے کہ ان کا عقیدہ کیا ہے۔قطع نظر اس کے کہ ان کے اعمال کیا ہیں خدا تعالیٰ نے ایک حق قائم کیا ہے۔کسی انسان کا یہ کام نہیں کہ کسی ایسے شخص کو خدا کے عطا کردہ حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کرے۔