خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 277
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۷۷ خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۷۹ء کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔جب یہ کہا گیا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے تو یہ نوع انسانی کے متعلق کہا گیا ہے کسی خاص گروہ کے لئے یہ نہیں کہا گیا۔دوسرے قرآن کریم میں ایک جگہ آیا ہے کہ قرآنی تعلیم تمہارے شرف اور تمہاری عزت کا سامان لے کر آئی۔اور عجیب بات ہے کہ جو تعلیم تمہاری عزت کے قائم کرنے اور تمہارے اندرونی شرف کو اجاگر کرنے کے لئے آئی تھی۔اسی کی طرف تم تو جہ نہیں دے رہے۔اور تیسرے یہ کہہ کر انسانی مساوات کا کہ انسان ، انسان میں کوئی فرق نہیں عظیم اعلان کیا اس فقرہ میں کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (الكهف: ۱۱۱) کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے۔جب میں ۱۹۷۰ء میں افریقہ کے دورے پر گیا تو مجھے وہاں یہ احساس ہوا کہ عیسائیت ان ملکوں میں اس دعوئی کے ساتھ داخل ہوئی تھی کہ ہم خداوند یسوع مسیح کے پیار کا اور محبت کا پیغام تمہارے پاس لے کر آئے ہیں۔لیکن ہوا عملا یہ کہ نہ ان کی دولتیں ان کے ہاتھوں میں رہنے دیں گئیں ، نہ ان کی عرب تیں ان کے پاس رہیں۔انتہائی تحقیر کے ساتھ ان کے ساتھ سلوک کیا گیا اور ساری دنیا میں اس قسم کی ڈراؤنی تصویریں افریقہ کے ممالک کے رہنے والوں کی دنیا میں پھیلائی گئیں کہ عیسائی دنیا کے بچے راتوں کو تصویریں دیکھ کے بعض دفعہ سو بھی سکتے تھے۔اتنی بھیانک تصاویر، بڑی حقارت تھی جس کا اظہار کیا گیا تھا۔ایک موقع پر غانا میں ٹیچی من“ کے مقام پر یورپین لاٹ پادری بھی آئے ہوئے تھے ہمارے جلسہ میں لیکن بیٹھے اس طرح تھے کہ میں آ گیا ہوں دیکھنے کے لئے کہ کیا سکیمیں یہ بنارہے ہیں۔لیکن کوئی خاص اہمیت نہیں دے رہا بے پرواہی کے ساتھ ایک طرف جھک کے لات پہ لات رکھ کے بیٹھے ہوئے ان احباب سے باتیں کرتے ہوئے اپنی تقریر میں میں نے کہا کہ دیکھو وہ جو افضل الرسل خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ جو پیرا ماؤنٹ پرافٹ تھا اس کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں تو Those who were junior to him like Musa and Christ تو جوان