خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 271 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 271

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۷۱ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء ہل کو لیکن کوئی بیمار ہو جاتا ہے اچانک مرجائے تو عام زمیندار تین بیل رکھتے ہیں ایک ہل میں یہ سمجھا جاتا ہے اصول تین بیل۔اگر وہ تین بیل بیچ دیں اور ان کو مناسب کرایہ پر قریب کی کسی ورکشاپ سے ٹریکٹر میسر ہو ان کو کیا ضرورت ہے غلام بن کے رہنے کا بیلوں کے۔وہ تین بیل بیچ دیں اور اس کی بجائے دو بھینسیں لے لیں۔ایک بیل کو۔۔۔۔جو چارہ دیتے تھے اس کی تو چارے کی بچت ہوگئی نا اس میں کچھ اور لگائیں۔دو بھینسوں کو پالیں۔دو بھینسوں کا میں نے یونٹ اس لئے سوچا کہ بھینس بھی ایک وقت میں خشک ہو جاتی ہے نا۔تو اگر وہ ہر ور یائی یعنی ہر سال بچہ دینے والی بہت ساری ہماری بھینسیں ہیں ایسی ، تو اگر وہ چھ چھ مہینے بعد دینے والی ہو تو اس کو آٹھ دس بارہ چودہ سیر ہر روز اس کے حصے میں دودھ آجائے گا۔تو وہ اور اس کے بچے دودھ پیئیں گے۔لسی پئیں گے۔وہ مکھن کھا ئیں گے۔وہ ان کا بوجھ بناسپتی گھی بنانے والے کارخانوں پہ نہیں ہوگا۔وہ اپنے گھر کا تازہ مکھن کھا رہے ہوں گے۔ان کی صحتیں اچھی ہو جائیں گی۔بچے اگر ذہین ہیں تو ان کے ذہنوں کو غربت کا دھکا لگ کے کمزوری نہیں پیدا ہوگی ان کے ذہنوں میں۔کھانے کا ذہن کے ساتھ بڑا تعلق ہے۔مجھے خدا تعالیٰ ہی سمجھ دیتا ہے، عقل دیتا ہے۔میں اپنے دفتر سے پرنسپل لاج کی طرف جارہا تھا۔راستے میں مجھے مل گیا ایک سکالر، نہایت چوٹی کا طالب علم ہمارا اور دو مہینے بعد ہونے تھے امتحان۔وہ راستے میں ملا میں نے سلام کیا اس کو۔میں نے اس کا چہرہ دیکھا تو اس کے چہرے کے اوپر سفید سفید داغ پڑے ہوئے تھے جو کمزوری کی علامت ہے۔اتنی سخت شرم آئی اس بچے سے۔میں نے کہا کہ یہ پڑھ رہا ہے امتحان قریب ہے اور کھانے کو متوازن غذا اس کے مناسب حال اس کو نہیں مل رہی۔یہ شکل بن گئی ہے اس کی۔بڑی استغفار کی میں نے۔اس کو میں نے کہا چلو ایک تو تمہیں میں ابھی دوں ایک چیز۔تو میں بڑی دیر سے سویا بین پر تجربہ کر رہا ہوں۔گھر گیا۔میں نے اس کو سویا بین دی۔میں نے کہا یہ کھانا شروع کرو۔پھر ہوٹل ہی کا طالب علم تھا میں نے ہوسٹل والوں کو کہا کہ تم اتھلیٹ کو دیتے ہو سو یا بین کی پنجیری بنا کے تو اپنے سکالرز جو ہیں پڑھا کو بہت تیز پڑھنے میں ، ان کو بھی دو۔وہ بنا کے دی۔وہ مجھے پندرہ دن کے بعد میں نے دیکھا تو سارے داغ غائب، سرخ چہرہ ، خون باہر نکلے۔میں بڑا خوش ہوا۔میں نے کہا یہ خدا