خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 264 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 264

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۶۴ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء چار قسم کی عظیم صلاحیتیں اور قابلیتیں دیں۔ان کی نشوونما کے میں نے سامان پیدا کئے۔میں یہ سامان پیدا کروں گا کہ سارے انسان اسلام کی حسین تعلیم میں ، اسلام کے ٹھنڈے سایہ میں جمع ہو کر ہر شخص کو پہلے اس کا حق مل جائے گا۔اس کے بعد پھر جن کو ہم نے ایسی صلاحیتیں دی ہیں کہ مثلاً وہ زیادہ کما لیں پھر ہم کہیں گے جب وہ اپنے حقوق ادا کر چکے ہوں گے اور ان کے پاس مال بچے گا پھر ہم کہیں گے اپنی مرضی سے اب کھا لولیکن یہ دیکھنا کہ اپنی مرضی سے اتنانہ کھا لینا کہ رات کو ہماری عبادت نہ کر سکو۔دن کے وقت بھی اونگھتے ہی رہو۔ہماری طرف توجہ نہ کرو۔اپنے جو ہر وقت کے حقوق ادا کرنے ہیں وہ تم ادانہ کر سکو۔یہ جو میں نے کہا کہ جس وقت کسی ملک کے ایک طبقہ کو مناسب حال اور متوازن غذا نہ ملے اس وقت سب امراء کی غذا لے کے اکٹھی جمع کر لو اور یہ انتظام کرو کہ پہلے ان کو مل جائے پھر ان سے کہو کہ اب تم جو مرضی کرو اپنی غذا سے یہ میں نے اعلان اس میں یہ کیا آج۔یہاں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کئی دفعہ، اس آیت کا یہی مفہوم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے ، اور اس وقت میں نے آپ کے سامنے آپ کا ایک ارشاد اور اُسوہ اور اس پر عمل کرنے والوں کے دو واقعات لئے ہیں تین۔بڑی چیز واضح ہو جاتی ہے کسی کو کوئی شبہ اور شک نہیں رہے گا۔یہ مسلم میں حدیث آتی ہے۔مسلم ،تھوڑا سا تعارف حدیث سے کروا دوں آپ کا۔ہمارے ان بزرگوں نے بڑے پیار، بڑی تحقیق سے اور بڑی توجہ کے ساتھ پوری کوشش ہے کہ کوئی غلط بات کوئی کسی غلط سند سے ہم تک پہنچی ہوئی بات ہمارے اس مجموعہ میں شامل نہ ہو جائے جو شائع کرنا چاہتے ہیں۔انسان تھے پھر بھی بعض غلطیاں کر گئے ہوں گے لیکن انتہائی قربانی کے ساتھ اور بڑی ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے بڑے عظیم لوگ تھے یہ۔ان عظیم لوگوں میں سے ایک طبقہ وہ تھا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات جمع کئے ، چھان بین کی ، ایک ایک حدیث کے لئے بڑی کوفتیں اٹھا ئیں اور سفر کئے اور اپنی پوری تسلی کرنے کے بعد انہوں نے جو اپنے معیار قائم کئے اس کے مطابق انہوں نے جمع کر دیئے۔یہ چھ صحاح ستہ ، چھ حدیث کی کتابیں ہیں جو کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ قابل اعتماد، قابل اعتبار ہیں۔ان میں سے صحیح بخاری نمبر ایک پر