خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 262
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۶۲ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء کہتے ہیں کسی کو بھی اس کی مرضی کا نہیں کھانے دیں گے۔یہ غلط ہے۔قرآن کریم یہ کہتا ہے فَضَّل بَعْضَكُم على بعض ہر شخص کو اس کا حق ادا کرو۔پھر جوز ائد تمہارے پاس ہے پھر اپنی مرضی چلا لو اس کے اندر اور پھر جب اپنی مرضی چلانے کا وقت آئے گا پھر خدا کہتا ہے جب اپنی مرضی چلا رہے ہو تو اپنی عارضی خوشیوں کا خیال رکھنے کی بجائے اپنی ابدی خوشیوں کا خیال رکھو۔پھران کو آگے وہ نعمتیں بیان کر کے وہ خدا تعالیٰ کے فضل بیان کر کے، خدا تعالیٰ کی جو رحمتیں اس زندگی میں نازل ہوتی ہیں ان کے نمونے ان پر نازل کر کے اس رنگ میں خدا تعالیٰ پیار کرے گامر نے کے بعد اپنے ایک پیارے بندے کو اپنی رضا کی جنت میں لے جاکے اس کا ایک نمونہ مثلاً یہ اس کو بتا دیتا ہے کہ وقت سے پہلے اس کو بشارت دے دیتا ہے اور وقت سے پہلے اس کو یہ تنبیہ کر دیتا ہے کہ یہ بات نہ کرو ورنہ تمہیں تکلیف ہوگی۔وقت سے پہلے بتا دیتا ہے کہ مثلاً اس ہوائی جہاز میں نہ جاؤ تمہاری جان کا خطرہ ہے۔ایسے بھی لوگ ہیں میں نے ایسے واقعات پڑھے ہیں۔تو وہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ساروں کو ان کے حقوق ادا کر دو پھر اگر تمہارے پاس فالتو بچتا ہے پھر جائز طور پر خدا تعالیٰ نے جو چیز حلال قرار دی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے جس کو حرام کہا ہے اس سے بچتے ہوئے اپنی مرضی سے جو مرضی کھاؤ لیکن ہر شخص کو مناسب حال متوازن غذا ملے گی پہلے۔یہ جو میں فقرہ بول رہا ہوں شاید بہت سارے نوجوان سمجھیں ہی نہ۔مناسب حال بدلتی ہے۔مثلاً ایک ابھی پیچھے جیسے بڑا یہاں شور تھا گشتی ہو رہی تھی جاپان اور پاکستان کی تو ایک پہلوان کی مناسب حال اور غذا ہے اور ایک وہ منحنی سابچہ نور صاحب کے پاس بیٹھا ہوا ہے پتا نہیں کون جس کا معدہ اور نظام ہضم جو ہے اس کے مطابق مناسب حال بالکل اور چیز ہے۔مناسب حال غذا عمر کے ساتھ بدل جاتی ہے۔مناسب حال غذا کام کی نوعیت کے ساتھ بدل جاتی ہے مثلاً ایک زمیندار جو ہے وہ اتنی بعض ہمیشہ نہیں لیکن بہت سارے سال کے ایسے بھی دن ہیں یا ہفتے ہیں جن میں اس کو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے، دن رات محنت کرنی پڑتی ہے اور اس محنت کے نتیجہ میں وہ شاید ڈیڑھ دوسیر آٹا بھی کھا جائے تو ایک وقت میں ہضم کرے گا وہ۔تو مناسب حال کو یہ سمجھ لو کہ جس کو وہ ہضم کر سکتا ہے اور متوازن کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے صرف ہمارے لئے