خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 261 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 261

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۶۱ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء کھلاتا ہے تین جانوروں کو اپنے ورنہ تو اس کو سوکھی روٹی بھی نہ ملے۔اور ان کی پیتی (ان کے پاؤں کے پیچھے ) پاس اپنی چارپائی بچھا کے اور وہاں سو جاتا ہے رات کو۔اکثریت ایسی ہے، اکثریت Small holding کی ہے اور اکثر Small holding والے جو ہیں بعض اچھے بھی ہیں لیکن اکثر ایسے ہیں جن کو اتنی روٹی تو مل جاتی ہے کہ وہ بھوکوں مریں نہ لیکن اتنی غذائیت ان کو نہیں ملتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جسمانی اور ذہنی اور اخلاقی اور روحانی جو طاقتیں دی تھیں ان کی کامل نشو و نما وہ کر سکے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو طاقتیں میں نے ہر فرد واحد کو دی ہیں ان کی کامل نشو ونما ہونی چاہیے۔ہر فرد کی ہر طاقت کی کامل نشوونما کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے مادی یا غیر مادی، وہ میں نے پیدا کر دی۔اگر وہ اس کو نہیں ملی تو کوئی اور غاصب ہے جس کے پاس ہے وہ۔اور انہی کو خدا کہتا ہے، انہی کی طرف اشارہ کر کے کہ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَتَّى لِسَابِلِ وَالْمَحْرُومِ ان کے پاس جن کے حقوق کی ادائیگی کے سامان ہیں پڑے ہوئے ان سے لو اور دو یاوہ آپ دے دیں۔خدا کی رضا کو حاصل کریں۔قرآن کریم یہ کہتا ہے اصل تو یہ ایک فقرہ ہے جس کے لئے میں نے یہ خطبہ آج پڑھا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب انسانوں کے ایک طبقہ کو ان کے مناسب حال اور متوازن غذا نہ ملے اور اس سے وہ محروم ہوں تو سب دولتمند ان کے برابر لا کے کھڑے کر دیئے جائیں۔وفي اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ میں بڑا عظیم اعلان ہوا ہے۔خدا یہ کہتا ہے کہ اگر مثلاً کوئی ملک اس کو ہم کہتے ہیں ”جیم ہر نام لے دیتے ہیں۔اس کی اتنی فیصد آبادی جو ہے اس کو مناسب حال متوازن غذ انہیں ملتی تو جب تک اس طبقہ کو مناسب حال متوازن غذا نہیں ملتی کسی امیر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان سے بڑھ کے کھائے۔وہاں لا کے کھڑا کر دیا جائے گا کہ جیسا یہ کھائے گا وہ۔تمام امرا اور دولتمند صاحب ثروت جو ہیں ان کو دکھ اور تکلیف میں غریب کے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑا کر کے سو فیصد ان کا شریک حال بنادیا۔شریک غم بنادیا ان کا اور ان امیر کو یہ کہا ہم نے تمہیں بڑا دیا۔جب ان کو مناسب حال متوازن غذامل جائے پھرا اپنی مرضی کی کھا۔تیرے اوپر کوئی پابندی نہیں۔بعض دوسری Extreme پر چلے گئے ہیں۔خیالات فلاسفی ، ازم جو ہیں وہ