خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 255

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۵۵ خطبہ جمعہ ۶ / جولائی ۱۹۷۹ء لڑکوں کے لئے یہ تدابیر سوچنا کہ وہ بھی اسی طرح انتہائی رفعتوں تک پہنچنے والے ہوں اور دوسرے یہ کہ علمی ترقی کے نتیجہ میں دنیوی اموال جو ہیں وہ حاصل ہوتے ہیں اس میں وہ صرف اس لئے ایک شخص کہے کہ جی میں آئن سٹائن بن گیا اس واسطے جو دنیا مجھے اموال دیتی ہے اس کے او پر میں کسی کا حق نہیں سمجھوں گا قرآن کہتا ہے یہ غلط ہے۔تمہیں ہر دوسرے کا حق سمجھنا پڑے گا کیونکہ یہ فضیلت خدا تعالیٰ نے اس لئے نہیں دی کہ تمہاری اجارہ داری ہو جائے بلکہ بہت ساری اشیاء پر اس لئے دی ہے کہ تم جہاں خدا تعالیٰ کی دنیوی مادی نعمتوں سے مالا مال ہوئے ہو وہاں تمہارے لئے ایسے سامان پیدا کئے جائیں کہ ان مادی نعمتوں کے صحیح استعمال کے نتیجہ میں تم روحانی نعمتوں کو حاصل کرنے والے بن جاؤ اور جو وقتی طور پر اور ہلاک ہونے والی چیزیں ہیں ان کے ذریعے سے تم خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق ان کا استعمال کرنے کے نتیجہ میں ابدی نعمتیں جو خدا تعالیٰ کی ہیں اس کی رضا کی ابدی جنتوں سے تعلق رکھنے والی ان کے تم حق دار بنو۔تو یہاں اس آیت کے آخر میں میں نے اس کا ایک ٹکڑا لیا تھا، تو آخر میں ہے کہ پھر کیا وہ اس حقیقت کے جاننے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔تو انکار کے ساتھ ہی اقرار اور انکار دونوں کا یہاں مضمون کے لحاظ سے ذکر ہے اور اقرار کے معنے ہیں خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق کو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق خرچ کرنا اور خدا تعالیٰ کی نعمت کے انکار کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے نعمت حاصل کی اور جس سے پایا اسی کی حکم عدولی شروع کر دی۔یہ ہے کفرانِ نعمت۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَ بِنِعْمَتِ اللهِ هُمْ يَكْفُرُونَ (النحل : ۷۳) اور اللہ نے تمہیں تمام قسم کی پاکیزہ چیزوں سے رزق بخشا ہے۔کیا پھر بھی ایک ہلاک ہونے والی چیز جو دنیوی عطا کی شکل میں تمہارے اوپر نازل ہوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔اس پر تو ایمان رکھو گے اور کہو گے کہ خدا تعالیٰ نے ہم میں پتا نہیں کیا خوبی دیکھی دنیوی اموال سے مالا مال کر دیا اور جو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا تقاضا ہے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔وہ ان مادی اور دنیوی عطایا