خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 254
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۵۴ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء پیچھے رہنے والے بھی ملیں گے۔ہر شعبہ زندگی میں انسان کی آپ کو اس آیت میں جو خدا تعالیٰ نے عظیم حقیقت بیان کی ہے اس کا جلوہ نظر آتا ہے۔وَالله فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ کہ ہم نے جو عطا دی انسان کو اس میں بعض کو بعض پر فضیلت دے دی لیکن اسی آیت میں ساتھ یہ کہا کہ فضیلت اس لئے نہیں دی کہ تم میرے بندوں کے خدا بننے کی کوشش کرو بلکہ اس لئے دی ہے کہ جو تمہارے Dependant ہیں، جو تمہارے زیر کفالت ہیں ان کو اپنا برابر سمجھو۔جو کھاؤ انہیں دو۔جو پہنو انہیں پہناؤ جہاں رہوا نہیں رکھو۔یہ جو Dependant ہیں اس میں سب سے نچلا درجه ان غلاموں کا تھا جو اسلام سے پہلے غلام بنالئے گئے تھے لیکن فوری طور پر بغیر صحیح انتظام کے ان کو آزاد کر دینا انسان پر ظلم کرنا تھا۔ایسا ہی تھا جیسے چڑیا گھر کے شیر کو آزاد کرنے کے لئے لاہور میں انارکلی میں لا کے چھوڑ دیا جائے۔پہلے ان کو انسانیت کے آداب، شرافت کے آداب، اخلاق ، ان کی ذہنیت میں تبدیلی پیدا کرنے کا سوال تھا ، بعد میں ان کو آزاد کرنے کا سوال تھا۔یہ ضمنا میں بات مثال کے طور پر دے رہا ہوں قرآن کریم پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے یکسر غلامی کو مٹا دیا اور کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دی بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کہ وہ کسی دوسرے انسان کو غلام بنائے تو جو مسئلہ آپ کے درپیش تھا، وہ غلامی کا نہیں تھا وہ تو ختم ہو گیا قصہ۔وہ یہ تھا کہ جو پہلوں نے غلام بنائے ہوئے تھے نسلاً بعد نسل ان کی ذہنیتیں جو ہیں وہ مسخ ہو چکی ہوئی تھیں۔ان کو اٹھا کر اس گراوٹ کے مقام سے انسان کے مقام پر لا کے کھڑا کرنا یہ تھا آپ کے سامنے مسئلہ اور اس کو آپ نے حل کیا۔تو یہ جو میں بات بتا رہا ہوں کہ جو زیر کفالت ہیں ان کو اپنے برابر کا حصے دار سمجھو کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو آپ کھاتے ہو وہ اپنے غلام کو کھلاؤ۔پرانے غلام جو ملے ہیں ورثے میں۔اس کے بعد پھر وہ جو قابلیتیں اور صلاحیتیں ہیں اس کے نتیجہ میں مختلف چیزیں رزق کے ساتھ تعلق رکھنے والی انسان کو ملتی ہیں۔ایک شخص ہے وہ علم میں ترقی کرتا ہے۔اس کے اوپر دوفرض عائد ہو جاتے ہیں۔ایک علم پڑھانا دوسروں تک پہنچانا اپنی قابلیت کو اور اپنے جیسے ذہین