خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 253 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 253

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۵۳ خطبہ جمعہ ۶ / جولائی ۱۹۷۹ء دولتوں کو اکٹھا کر دیا۔اس کی ابتدا تھی ابھی۔تاجروں کا کوئی قافلہ ایک لاکھ اونٹ مدینہ کی منڈی کی طرف لا رہا تھا۔راستہ میں ایک صحابی گزر رہے تھے اپنے کسی کام سے وہاں ان کی انہوں نے دیکھا یہ مال منڈی میں جا رہا ہے۔وہ بھی تاجر تھے انہوں نے غور کیا۔انہوں نے دل میں فیصلہ کیا مال اچھا ہے میں خریدوں گا۔لیکن حکم یہ ہے اسلام کا کہ بھاؤ کو بگاڑو نہ ، منڈی میں جانے دو۔وہاں جو منڈی کا بھاؤ نکلے اس کے مطابق خریدو۔منڈی کے باہر باہر جیسا کہ اب رواج ہو گیا ہے بعض جگہوں پہ ، بعض جگہ نہیں۔بھاؤ بگاڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے دل میں ایک خیال قائم کیا ، سوچا، ایک فیصلہ کیا منڈی میں آگئے۔ان سے پہلے ایک اور صحابی نے سودا کر لیا ایک لاکھ اونٹ کا۔وہ آپس میں سارے بھائی بھائی اور دوست تھے۔وہ جنہوں نے رستے میں دیکھا تھا انہوں نے آکے اپنے دوست کو کہا تم پہلے آگئے منڈی میں تم نے یہ مال خرید لیا ایک لاکھ اونٹ۔میرا تو خیال تھا میں خریدوں گا۔تو انہوں نے کہا تم اب خرید لو۔کہ کیا بھاؤ، کس بھاؤ پر؟ انہوں نے کہا جس بھاؤ پر میں نے لیا ہے اسی بھاؤ پر تم لے لو، صرف نکیل مجھے دے دو ہر اونٹ کی۔تو اب یہ بڑا تاجر، تاجر دماغ یہ سوچ سکتا ہے کہ نکیل مجھے دے دواسی بھاؤ پہ لے لو۔اگر وہ اٹھنی بھی قیمت سمجھی جائے تکمیل کی تو پچاس ہزار روپے کا انہوں نے آدھے گھنٹے میں نفع حاصل کرلیا۔- میں بتا یہ رہا ہوں کہ یہ جو کہا ہے کہ ہم نے فضیلت دی بعض کو بعض پر ، یہ فضیلت کا پہلا حل جو ہے وہ استعداد کا دینا ہے۔بعض زمیندار ہیں ، وہ ۱۵ ایکٹر میں۔میں نے خود پڑھا ہے یعنی دنیا کی بات کر رہا ہوں صرف اپنے علاقہ کی بات نہیں کر رہا۔یہاں سے ہزاروں میل دور سے یہ واقعہ ہوا کہ پندرہ ایکڑ کے مالک نے ساڑھے پانچ لاکھ روپیہ خالص آمد پیدا کی اور بہت سارے ایسے زمیندار بھی ہیں کہ جو پندرہ ایکڑ کے مالک ہیں اور سرخ مرچ کی چٹنی پیس کے اور روکھی روٹی کے ساتھ ان کا گزارہ ہے۔علم کے میدان میں، ہر علم کے میدان میں آپ کو نہایت ذہین ، آگے بڑھنے والے ملیں گے۔ہر علم کے میدان میں آپ کو اس علم کے حصول کی صلاحیت نہ رکھنے والے یا کم رکھنے والے