خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 248
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۴۸ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء آپ کے پہلو میں کھڑا ہے اپنے وعدہ کے مطابق ، وہ آپ سے پیار کرنے والا ہے یا نہیں۔یا نہیں آپ کی اپنی کسی غفلت یا کوتاہی کے نتیجہ میں۔اگر اس کا پیار آپ کو حاصل ہے تو کسی اور سے آپ کو غرض کیا اس رنگ میں۔غرض ہے ایک اور رنگ میں کہ آپ ان کے خیر خواہ ہیں۔آپ ان کے دکھوں کو دور کرنے والے ہیں۔یہ تعلق تو ہے آپ کا ان کے ساتھ۔لیکن یہ کہ وہ کچھ کہیں اور آپ گھبرا جائیں یا پریشان ہو جائیں یا آپ غصہ میں آجائیں یا آپ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکیں یہ احمدی کا مقام نہیں اور خدا کے فضل سے دنیا کے حالات نے اور دنیا کی تاریخ نے دنیا کو بتایا کہ احمدی اپنے اس دعوی میں بچے ہیں۔۵۳ ء کے فسادات ہوئے۔۷۴ ء کے فسادات ہوئے۔اس وقت مجھے ایک ہی فکر لگی ہوئی تھی یعنی بعض دفعہ میں ساری ساری رات نہیں سو یا۔بہت نہیں سو یا مختلف وجوہات کی بنا پر۔بہت راتیں نہیں سو یا لیکن بعض دفعہ اس وجہ سے بھی نہیں سویا کہ کوئی نوجوان ہمارا عدم تربیت کے نتیجہ میں ایسا کام نہ کر بیٹھے جو جماعت احمدیہ کے مقام سے ہٹ کے کر رہا ہو وہ اور بدنامی ساری جماعت کی ہو۔لیکن خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ دنیا کوئی ایک مثال بھی نہیں پیش کر سکتی۔میں ایسے اشخاص کو بھی جانتا ہوں کہ جن کے پاس اپنی جان کی حفاظت کے لئے مادی طاقت موجود تھی۔انہوں نے جان دی خدا تعالیٰ کی راہ میں لیکن مادی طاقت کے استعمال سے فتنہ و فسادکو ہو انہیں دی اور کئی دفعہ میں سنا چکا ہوں دو ہمارے نوجوان مبلغ ایک سفر کر رہے تھے وہ تیس چالیس آدمی بس کے انہوں نے وہ سکے اور چھیڑ میں ان کو مارنی شروع کیں کوئی آٹھ دس بارہ میل کے سفر میں۔منہ سوجھ گیا۔گردن فٹ بال بنی ہوئی۔خیر مجھے رپورٹ ان کے پہنچنے سے پہلے پہنچ گئی۔بعد میں ان میں سے ایک آیا میرے پاس۔تو دکھ اٹھانا آپ کے لئے یہ میری فطرت کا ایک حصہ ہے لیکن اس کا اظہار خدا کی منشا کے مطابق کرنا، یہ میرا فرض ہے اور اس کو میں ادا کرتا ہوں۔جب ان میں سے ایک مجھے ملنے آیا منہ سوجھا ہوا اگر دن سو جبھی ہوئی تو میں نے مسکرا کے اس سے بات کی۔میں نے کہا دیکھو! یہ جو تمہارے ورم آئی ہوئی ہے یہ عارضی ہے۔میرے منہ سے اس وقت نکلا خدا نے میری بات پوری کر دی کہ ۴۸ گھنٹے کے اندر اندر یہ سوجھن ، یہ ورم جاتی