خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 247 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 247

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۴۷ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء تو ایک طرف ہم اس خدا پر ایمان لاتے ہیں جو قرآن کریم نے پیش کیا۔جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے رکھا۔جس سے آپ نے اس رنگ میں محبت کی کہ ہمارے لئے وہ محبت بھی اُسوہ بن گئی اور جس خدا سے آپ نے اس رنگ میں پیار حاصل کیا کہ ہمارے دلوں میں بھی ایک لگن لگی کہ ہم بھی اپنے پیارے خدا سے اپنی استعداد اور طاقت کے مطابق اسی قسم کا پیار حاصل کریں۔ہم خدا کی ذات اور اس کی صفات پر کامل ایمان رکھتے اور سوائے خدا کے کسی پر تو گل نہیں رکھتے اور سوائے خدا کے کسی کی خشیت ہمارے دل میں نہیں صرف خدا کی خشیت ہمارے دل میں ہے۔اسی پر ہمارا بھروسہ ہے اور یہ سب کچھ ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے طفیل حاصل ہوا۔اس لئے ہمارے دلوں میں ہمارے سینوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سمندروں کی طرح موجزن ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ سمندر ہمارے سینوں کے سمندروں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ جس سینہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت موجزن ہو اور خدا تعالیٰ کا پیار جو ہے وہ موجیں لے رہا ہو اس کے مقابلہ میں ان مادی سمندروں کی کیا حقیقت ہے اور ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پیار کرتے ہیں کیونکہ ہمیں یہ پتا ہے، یقین ہے، ہمیں یہ معرفت حاصل ہے، ہم علی وجہ البصیرت اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنا اور آپ کے فدائی بننا اور آپ کے غلاموں میں شامل ہونا ضروری ہے۔جو آپ سے حاصل نہیں کرتا جیسا کہ ابھی آپ نے حوالوں میں سنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان کے، وہ خدا تعالیٰ سے تھوڑے سے تھوڑا پیار بھی حاصل نہیں کر سکتا بڑے سے بڑا رتبہ تو علیحدہ رہا کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کر دیا کہ اگر میری محبت حاصل کرنا چاہتے ہو اپنی اپنی استعداد کے مطابق بڑی محبت یا چھوٹی محبت تھوڑی یا بڑی محبت فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اعلان کر دو۔میری اتباع کرو گے تو خدا کا پیار حاصل کر سکو گے۔ہم علی وجہ البصیرت اس ایمان پر قائم ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اللہ کے فضل کے ساتھ ، نہ ہماری کسی طاقت کے نتیجہ میں دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس مقام سے پرے نہیں ہٹا سکتی۔جو منہ میں آتا ہے کسی کے، کہے آپ کو کیا فکر؟ آپ کو تو یہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ جو