خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 244 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 244

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۴۴ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء سارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ساری، آپ پر ایمان لانے والے جنہوں نے آپ کے طفیل خدا تعالیٰ کی رضا کے بڑے درجات حاصل کئے ان کی زندگیاں اس سے معمور ہیں۔بہر حال یہ یمنی باتیں میں نے جماعت کی تربیت کے لئے اس وقت کہی ہیں ، بتا میں یہ رہا ہوں اسی کے ساتھ ہی تعلق ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم پیار کرتے ہیں۔وہ ہمارے محبوب ہیں ، ہمارے مطاع ہیں۔ہم ان کی اتباع کو فرض جانتے ہیں۔خدا تعالیٰ اگر ہمیں توفیق عطا کرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلنے کی تو خدا تعالیٰ کا یہ بے حد و شمار احسان سمجھتے ہوئے سجدات شکر اس کے حضور بجالاتے ہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ کہا گیا ہے،سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے نور کا جلوہ ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، یہ وہی ہے اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہی کی ہے تفسیر کا ایک حصہ۔وو ” وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔وہ ملا یک میں نہیں تھا۔نجوم میں نہیں تھا۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید ومولی ، سیدالانبیاء، سید الاحیاء، محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہمرنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں۔قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) والا ہے نا۔یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرنگ ہیں وہی نور خدا تعالیٰ کا حسب مراتب ان کو بھی ملا۔پھر فرماتے ہیں :۔” اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید، ہمارے مولی ، ہمارے ہادی، نبی آتی صادق مصدوق محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔