خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 241

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۴۱ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء نے ترجیحی فہرستیں صحابہ کی بنائی ہوئی تھیں ان کے مقام کے لحاظ سے ان کا حصہ رسدی مال غنیمت سے بانٹ دیا کرتے تھے۔ایک موقع پر حضرت عائشہ کے حصہ میں ایک لاکھ سونے کی اشرفی آئی۔وہ ان کے گھر میں پہنچا دی گئی۔آپ کی ایک خادمہ تھی اس کو بلایا ان دنوں میں ایک لاکھ کا گنا تو بڑی مشکل بات تھی نا اس لئے تول لیا کرتے تھے۔تو ایک فہرست بنائی ذہن میں کہ اس طرح میں نے تقسیم کرنی ہے۔اتنے سیر اس میں سے فلاں کے گھر بھیج دوں گی اتنے فلاں کے۔اس کو کہا تکڑی لاؤ۔تول تول کے اسی کے ہاتھ ان لوگوں کے گھروں میں جن کو حصہ رسدی ملا ہوگا لیکن کم۔ان کے گھروں میں اشرفیاں سونے کی بھجوائی شروع کر دیں اور آخری تول تو لا اشرفیوں کا اور بھجوا دیں اور یوں ہاتھ جھاڑتے ہوئے کھڑی ہو گئیں۔ایک اشرفی بھی اپنے پاس نہیں رکھی۔خادمہ نے کہا کہ آج کھانے کے لئے کچھ نہیں ہمارے گھر میں ، اس کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہا خدا کا نام میرے گھر میں ہے۔آپ ہی انتظام ہو جائے گا۔اس کی کیا پرواہ ہے۔تو صاحب ثروت و دولت ہونے کے لحاظ سے بھی ایک اُسوہ پیش کیا دنیا کے سامنے۔اور وہ یہ تھا کہ دولت ملے دولت سے پیار نہ کرنا۔دولت دینے والے سے پیار کرنا اصل یہ ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا بھی یہی نمونہ ہے۔انہوں نے کہا دولت دینے والا جب میرے پاس ہے تو دولت کی احتیاج کا خیال میرے ذہن میں کیسے آسکتا ہے۔ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ وہ کئی ہزار اشرفی کا جبہ پہن لیتے تھے۔بڑے بزرگ تھے لیکن وہ جبے سے پیار نہیں کرتے تھے۔ایک دن ایک بہت بڑے امیر نے ان کو دعوت دی۔تو وہ اپنے فقیرانہ لباس میں اس کے محل کی طرف روانہ ہو گئے۔جس وقت وہ ڈیوڑھی میں پہنچے تو ان کے دربان نے ان کو پہچانا نہیں اس لباس میں۔وہ کہنے لگا بابا جاؤ یہاں آج تو بڑوں بڑوں کی دعوت ہے۔کہاں آگئے ہو آج تم پھر آ جانا کسی وقت۔وہ سمجھا کہ مانگنے کے لئے کوئی آگیا ہے۔یہ چلے گئے واپس اور انہوں نے وہی ہزار ہا پاؤنڈ کی اشرفیوں کا جبہ پہنا۔پھر آئے اور بڑے جھک کے سلام کیا اس دربان نے اور بڑے عزت و احترام کے ساتھ اس نواب صاحب کے پہلو میں