خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 240

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۴۰ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر بڑی روشنی ڈالی ہے کہ کامل نمونہ تو تب بن سکتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ جب ہر انسان کے ہر قسم کی زندگی کے ماحول سے ملتے جلتے ماحول میں سے آپ کو گزرنا پڑتا۔آپ نے مظلومانہ زندگی بھی گزاری ، آپ نے محکومانہ زندگی بھی گزاری، یعنی اور بادشاہ تھے۔کسی اور کی بادشاہت میں رہے مکی زندگی میں۔آپ نے غریبانہ زندگی بھی گزاری، آپ نے مسکینی کی زندگی بھی گزاری ، آپ ایک وقت تک اکیلے تھے اور اس معنی میں کہ گھر والے بھی نہیں پہچانتے تھے ، پھر یتیمی کی زندگی بھی گزاری اور آپ نے عیال داری کی زندگی بھی گزاری۔آپ ایسے ماحول میں سے بھی گزرے کہ آپ کے سارے ہی لڑکے فوت ہو گئے اور صرف بچیاں اولاد میں سے بچیں۔باپ بھی بنے اچھے باپ، بہترین باپ اور صدمہ بھی اٹھایا اور ہر انسان کے لئے ایک نمونہ پیدا کر دیا۔پھر آپ صاحب دولت بھی بنے۔ساری دنیا کی دولتیں آپ کے قدموں میں اور آپ کے ماننے والوں کے قدموں میں خدا تعالیٰ نے لا کے رکھ دیں۔اُس وقت کی دنیا کی ساری دولتیں سمٹ سمٹا کے کسری کے خزانوں اور قیصر کے خزانوں میں تھیں اور اس وساطت سے پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کے قدموں میں کسری کے خزانے بھی آکے ڈال دیئے گئے اور قیصر کے خزانے بھی وہاں۔۔۔اور جو نمونہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب دولت و ثروت ہونے کے زمانہ کے لئے اپنے صحابہ کے سامنے پیش کیا تھا اس کی دو مثالیں آپ کو دے دیتا ہوں، بھری پڑی ہے ہماری تاریخ۔حضرت ابو ہریرہ ایک نہایت ہی غریب اور مسکین انسان۔کئی دفعہ بھو کے بھی رہتے۔کئی وقت کا فاقہ آپ پہ گزر جاتا ، ظاہر نہیں کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اشارہ کبھی کہہ دیتے تھے کہ دیر سے کھانا نہیں ملا۔ان کو قیصر کا رومال بادشاہ سلامت کا ملا۔اب انہوں نے فخر سے اپنے سر پہ نہیں باندھا بلکہ رومال لے کے اس میں تھو کا اور کہا خدا کی شان ہے کہ جسے روٹی کھانے کو نہیں ملتی تھی آج اسے قیصر کا، کسری کا رومال تھوکنے کے لئے مل گیا۔تو کسریٰ کا رومال کوئی فخر کا باعث نہیں تھا ان کے لئے فخر کی بات یہ چیز تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آج یہ دن بھی ان کو دیکھنا نصیب ہوا اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ۔جب یہ خزانے آئے حضرت عمر