خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 239

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۳۹ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء غیر محدود انعامات کا عقلاً اور منطقی لحاظ سے کسی کو وارث نہیں بناتیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہی ہے جو انسان کو ابدی نعمتوں کا وارث بنا دیتی ہے۔اللہ بڑا رحم کرنے والا ، بڑا پیار کرنے والا ہے۔پس میں بتا یہ رہا ہوں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر جسے اسلام نے ، جسے قرآن کریم نے ، جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم میں اور اپنے اسوہ میں پیش کیا۔اللہ ہمارا معبود ہے۔اللہ ہمارا محبوب ہے۔وہ ہمارا مقصود و مطلوب ہے اور اللہ تک پہنچانے والے، اللہ کی رضا کی راہوں کو ہم پر ظاہر کرنے والے ہمیں وہ راہیں دکھانے والے، پیار کے ساتھ ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والے ہمارے پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم۔چونکہ ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سے راضی ہو اور ابدی انعامات کا ہمیں وارث بنائے اور ہم اس کی پیاری آواز کو اپنی اس محمد ود زندگی میں بھی ساری ان بشارتوں کے ساتھ سنیں جو اس نے دی ہیں اور مرنے کے بعد بھی وہ اپنی رضا کی جنتوں میں ہمیں داخل کرے اور اس گروہ میں ہم شامل ہوں جن کے متعلق فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ (الرعد : ۲۵) کہا گیا ہے اس پہلی آیت میں جو میں نے پڑھی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قدر پیار کیا اپنے رب سے کہ کسی انسانی زندگی میں وہ پیارا اپنے ربّ کے لئے ہمیں نظر نہیں آتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر عظیم صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ جسمانی قوتوں کے ساتھ بھی اور روحانی قوتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ بھی آئے۔بنی نوع انسان کی طرف کہ اس قدر قو تیں اور صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے کسی اور کو عطا نہیں کی تھیں۔بہت ساری یہ میں کر جایا کرتا ہوں مختصر باتیں کیونکہ بہت سارے شیطانی وساوس جو ہیں وہ حل ہو جاتے ہیں اگر ہم اس بات کو سمجھیں۔جس قدر صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں اور کسی انسان کو نہیں دیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب صلاحیتوں کو جس قدر نشو و نما کرنے کی توفیق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی اتنی توفیق کسی انسان کو اس کی۔اس کو جوطاقتیں ملی تھیں ان کی نشو ونما کے لئے توفیق نہیں ملی ہمیں نظر نہیں آتی۔